محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی لیڈی ڈاکٹر کسی عورت کی فرج میں علاج کی غرض سے اپنی انگلی اندر ڈال دے یا اس عورت کا شوہر اسے میلاپ کے لئے تیار کرنے کی غرض سے انگلی ڈالے تو ایسی صورت میں کیا اس عورت پر غسل واجب ہوگا یا نہیں؟
اگر اس داخل کرنے سے تلذذکے ساتھ انزال نہ ہو تو اس سے غسل بھی لازم نہ ہوگا ورنہ ہوگا۔
کما فی رد المحتار: قال في التجنيس: رجل أدخل إصبعه في دبره وهو صائم اختلف في وجوب الغسل والقضاء. والمختار أنه لا يجب الغسل ولا القضاء؛ لأن الإصبع ليس آلة للجماع فصار بمنزلة الخشبة ذكره في الصوم، وقيد بالدبر؛ لأن المختار وجوب الغسل في القبل إذا قصدت الاستمتاع؛ لأن الشهوة فيهن غالبة فيقام السبب مقام المسبب اھ (1/166)۔