کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اسلام نے ایک شخص کو اس کے عضوِ تناسل کو حرکت دینے کو حرام اور ناجائز قرار دیا ہے؟ کیونکہ اس طرح حرکت دینے سے منی باہر آجاتی ہے، اس حرکت سے اسلام نے منع کیا ہے؟ اور اگر ایسا کیا جائے تو پھر غسل واجب ہو جاتا ہے۔
جی ہاں! مذکور فعلِ شنیع شرعاً ناجائز حرام ہےاور اس کے مرتکب کے لۓ سخت وعیدیں بھی بیان کی گئی ہیں ،جس کی بناء پر اس سے احتراز لازم ہے ، اور اگر غلبہ شہوت وغیرہ کی وجہ سے یہ فعل سرزد ہو کر اخراجِ منی بھی ہو جائے تو یہ بہر حال موجبِ غسل ہے۔
فی الدر المختار: وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون» ولو خاف الزنى يرجى أن لا وبال عليه. اھ(2/ 399)۔
وفی حاشية ابن عابدين: فلو أدخل ذكره في حائط أو نحوه حتى أمنى أو استمنى بكفه بحائل يمنع الحرارة يأثم أيضا ويدل أيضا على ما قلنا ما في الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] الآية وقال فلم يبح الاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة اهـ فأفاد عدم حل الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما هذا ما ظهر لي والله سبحانه أعلم. (2/ 399)۔
وفی الدر المختار: (وفرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو وإلا فلا يفرض اتفاقا؛ لأنه في حكم الباطن اھ(1/ 159)۔