سچ جانیے یہ بات کرتے ہوئے بہت شرم آرہی ہے، لیکن صرف اسلام اور پاکی کی نیت سے یہ سوال کررہی ہوں، کیا لڑکیاں انگلیوں سے ’’سیکس‘‘ کرسکتی ہیں؟ اس صورت میں غسل کس وقت واجب ہوگا؟ اس چیز سے تسکین حاصل کرنے تک وہ انگلیوں سے ’’سیکس‘‘ کرسکتی ہیں؟
جب سیکس اور تسکین حاصل کرنے کی غرض سے داخلِ فرج میں انگلی داخل کی جائے اور انزال ہوجائے تو اس سے غسل لازم ہوجاتا ہے، اس لیے مذکور ناجائز طرزِ عمل سے احتراز واجب ہے، نیز ایسی صورتحال میں اپنے والدین یا دیگر اولیاء کو مناسب طریقہ سے شادی پر آمادہ کرنا چاہیے۔
فی الشامیة: وقید الدبر لان المختار وجوب الغسل فی القبل اذا قصدت الاستمتاع، لان الشهوة فیهن غالیة فیقام السبب مقام السبب دون الدبر لعدمها. (ج۱، ص۱۶۶)
وفی المنیة: وفی وجوب الغسل بادخال الاصبح فی القبل او الدبر خلاف والاولٰی ان یوجب فی القبل اذا قصد الاستمتاع لغلبة الشهوة فیهن غالبة فیقام السبب مقام السبب وهو الانزال. غنیة المصلی. (ص۴۶)