ایک عورت جس کا شوہر انتقال کر چکا ہے۔اب یہ عورت اپنے سسرال کے ہاں عدت گزار رہی ہے لیکن اکثر نامحرم دیوریا جیٹھ کا سامنا ہو جاتاہے تو اسلئے اس عورت کی والدہ اب چاہتی ہے کہ میری بیٹی عدت کے بقیہ ایام میرے پاس گزارے، تو کیا یہ عورت عدت کے بقیہ ایا م والدین کے پاس گزار سکتی ہے؟
برائے مہربانی شریعت کی رو سے جواب دے کر شکریہ کاموقع عنایت فرمائیں۔ فقط والسلام
دوران عدت عذر شرعی یا سخت مجبوری کے بغیر معتدہ کا اپنے گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔اور سوال میں مذکور عذر کا حل یہ ہے کہ گھر میں بڑی چادر کا استعمال اس طور پر کرے کہ گھونگھٹ کے ذریعہ اپنا چہر ہ اور پورا بدن غیرمحرم کے سامنے نہ کھلنے پائے۔ اوراگر مجبور ا کوئی بات کرنی پڑجائے تو بقدر ضرورت اور سخت لہجے میں کرے۔ اور ان امور کا تعلق صرف عدت سے نہیں بلکہ عام گھر یلو زندگی سے بھی متعلق ہیں۔
وفی الدرالمختار: وتعتد ان ای معتدۃ طلاق وموت فی بیت وجبت فیہ ولا یخرجان منہ الا ان تخرج اوتیھدم المنزل او تخاف انھدامہ او تلف لاھا او لا تجد کراء البیت ونحو ذالک من الضرورات اھ (ج۳ص ۶۳۵) واللہ اعلم بالصواب