السلام علیکم!
مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ میری ماں نے اپنی ایک پروپرٹی اپنے بیٹے کو بغیر تحریر کے زبانی ہبہ (گفٹ) کی ہے، میری بڑی بہن کو کہا تھا کہ یہ پلاٹ صائمہ کے نام ہے، لیکن وہ اس کی مالک نہیں ہے، وہ پلاٹ میرے بیٹے کو دیدینا، پلیز اس مسئلہ میں آپ ہمیں فتوی جاری کریں کہ یہ پلاٹ ہم بہن بھائیوں میں تقسیم ہو گا کہ نہیں؟
واضح رہے کہ کوئی بھی چیز کسی کے صرف نام کر دینے سے وہ شخص اس چیز کا شرعاً مالک نہیں بنتا، جب تک اس چیز پر اسے باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ اور تصرف کا حق نہ دیدیا جائے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی ماں نے مذکور پلاٹ اپنے بیٹے اور بیٹی (سائلہ) کے صرف نام کیا ہو، باقاعدہ طور پر حوالہ کر کے ان کو مالکانہ تصرفات کا اختیار نہ دیا ہو تو ایسی صورت میں یہ ہبہ تام نہیں ہوا، بلکہ مذکور پلاٹ سائلہ کی والدہ کی ملک میں رہ کر اب انتقال کی صورت میں تمام شرعی ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا۔ تاہم سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال دوبارہ مکمل تفصیل سے لکھ کر ای میل کر دیں ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
ففی البحر الرائق: وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك فلا تصح هبة المجنون والصغير والعبد ولو مكاتبا أو أم ولد أو مدبرا أو مبعضا وغير المالك و في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع متميزا غير مشغول اھ (7/ 284)
و في الفتاوى الهندية: وإذا كانت العين الموهوبة في يد الموهوب له وديعة أو عارية أو أمانة ملكها بالهبة والقبول وإن لم يجدد فيها قبضا كذا في الكافي (4/ 377) -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1