السلام علیکم! ایک شادی شدہ لڑکی جس نے حالات اور گھریلو معاملات سے پریشان ہوکر نامناسب کلمات زبان سے نکال دئیے، جو مندرجہ ذیل ہیں، اس نے اللہ تعالٰی کے بارے میں ایسا کہا کہ میں اس کو رب نہیں مانونگی، اس کی نماز بھی نہیں پڑھونگی، اس کی عبادت بھی نہیں کروں گی، اس کا کچھ بھی نہیں کروں گی، وہ میرا سب کچھ چھین لیتا ہے، اس طرح اس نے پانچ جملے کہے،تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں، جزاک اللہ خیراً۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اور لڑکی مسماۃ فرحانہ نے یہ الفاظ اپنے ہوش و حواس میں کہہ دیئے ہوں تو اس کی وجہ سے مسماۃ فرحانہ دائرہ اسلام سے خارج ہوچکی ہے، چنانچہ اب اس پر تجدید ایمان و تجدید نکاح اور آئندہ کے لئے اس طرح کے کلمات کہنے سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: ثم قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف. اهـ (ج4 صـ224 ، ط: دار الفکر)۔
وفیہ ایضاً: أن ما فيه خلاف يؤمر بالتوبة والاستغفار وتجديد النكاح الخ (ج4 صـ259 ، ط: دار الفکر)۔
واللہ اعلم بالصواب
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1