1. کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ خلیفہ، وزیر، نائب، خدا خود مقرر کرتا ہے یا نبی رسول مقرر کرتے ہیں، یا امت کو اختیار ہے کہ وہ منتخب کرے یا نامزد کرے ۔ جواب قرآن و حدیث کی مستند احادیث سے درکار ہے۔
2. سورۃ الرعد آیت ۴۳ کا ترجمہ و تفسیر مع حوالہ جات درکار ہے۔
1. أنبیاء و رُسل کا تکوینی و تشریعی تقرر اور بعثت اللہ تعالیٰ ہی فرماتے ہیں ، جیسا کہ بہت ساری نصوصِ قطعیہ سے یہی ظاہر ہے، البتہ دیگر دنیوی عہدے جیسے خلیفہ اور وزیر وغیرہ کا تقّرر اللہ تعالیٰ نے اہلِ حل وعقد کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے، اگر چہ تکوینی طور پر یہ بھی اللہ کے علم میں مقرّر و معلوم ہی ہوتا ہے۔
سورہ رعد کی آخری آیت ﴿وَیقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ کَفَی بِاللَّہ شَہیدًا بینی وبینکم وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الکتاب﴾(الرعد: 43) کا ترجمہ مذکور ہے:
’’اورکہتے ہیں کافر تو بھیجا ہوا نہیں ، کہہ دے اللہ کافی ہے گواہ میرے اور تمہارے درمیان اور جس کو خبر ہے کتاب کی‘‘۔
منکرینِ رسالت کے رد میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے اندر دو دلیلیں بیان فرمائی ہیں: ایک اللہ کی گواہی، یعنی معجزات اور دوسری کتبِ سماویہ سابقہ آپ کی رسالت کی پیشنگوئی، جس کی شہادت اہلِ کتاب کے صاحبِ علم افراد ( عبداللہ بن سلام، جارود، تمیم الداری اور سلمان فارسی) نے دی، لہٰذا ’’ومن عندہ علم الکتاب‘‘ سے مراد علماءِ اہلِ کتاب ہیں، جو منصف تھے اور نبوت کی پیشنگوئی دیکھ کر ایمان لے آئے اور نبوت کی گواہی دی۔
ففی تفسير روح المعاني: فقد أخرج عبد الرزاق وابن جرير وابن المنذر عنه أنه قال في الآية: كان من أهل الكتاب قوم يشهدون بالحق ويعرفونه منهم عبد الله بن سلام والجاورد وتميم الداري، وسلمان الفارسي، وجاء عن مجاهد وغيره وهي رواية عن ابن عباس أن المراد بذلك عبد الله ولم يذكروا غيره۔ (7/ 165)-
وھکذا فی تفسیر القرطبی وذکر روایة عن الترمذی (۹/۲۲۶) -
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0