جناب مفتی نعیم صاحب جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی !السلام علیکم!
جناب عالی!
جناب درج ذیل چند مسئلوں کے بارے میں مجھے آپ سے فتویٰ چاہیے!
۱۔ نمازِ حاجت کیا ہوتی ہے؟ اور اس کو نیت سے لے کر نماز کو پورا (ختم) کرنے تک کیسے پڑھی جاتی ہے؟ اور نمازِ حاجت میں دو رکعت ہوتی ہیں یا چار رکعتیں ہوتی ہیں؟
۲۔ میں نے ایسا سنا ہے کہ نمازِ حاجت کی پہلی رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین بار آیت الکرسی پھر چاروں قل اور پھر سورۂ اخلاص پڑھتے ہیں اور اسی طرح چاروں رکعتوں میں پڑھتے ہیں؟ براہ مہربانی مجھے ان تمام سوالوں کے جوابات قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل سے بیان کریں۔ شکریہ!
کسی بھی دینی یا دنیوی حاجت و ضرورت پیش آنے پر جو نماز پڑھی جاتی ہے اس کو ’’صلاۃ الحاجۃ‘‘ کہتے ہیں۔ پھر یہ نماز چار رکعت بھی پڑھ سکتے ہیں، مگر دو رکعت پڑھنا افضل ہےاور یہ عام نوافل کی طرح پڑھی جاتی ہے اور سورۂ فاتحہ کے بعد جو بھی سورت یاد ہو، پڑھ سکتے ہیں۔ سوال میں مذکور سورتوں کا پڑھنا لازم نہیں۔
ففی سنن الترمذي: عن عبد الله بن أبي أوفى، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كانت له إلى الله حاجة، أو إلى أحد من بني آدم فليتوضأ وليحسن الوضوء، ثم ليصل ركعتين، ثم ليثن على الله اھ(1/ 603)۔
وفی الدر المختار: وأربع صلاة الحاجة، قيل وركعتان. (2/ 27)۔
وفی وحاشية ابن عابدين: تحت هٰذا: وأما في شرح المنية فذكر أنها ركعتان، والأحاديث فيها مذكورة في الترغيب والترهيب كما في البحر. (2/ 28)۔
وفی الفتاوى الهندية: (ومنها) صلاة الحاجة وهي ركعتان. (1/ 112)۔
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0