کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و شرع متین اہل سنت والجماعت! اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کارخانہ کے اندر ایک پُختہ اور باقاعدہ مسجد تھی ا گرچہ اس مسجد میں نہ تو کسی باقاعدہ امام کا تعین کیا گیا تھا نہ ہی پنج وقتہ نماز باجماعت ادا ہوتی تھی اور جمعہ کی نماز کا تو سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا اور مسجد بھی کمپنی کے اندر ہی تھی یعنی چار دیواری کے اندر ہی واقع تھی اس کا باہر کی جانب دروازہ نہ کھلتا تھا اور راہ گیر حضرات اندر نماز نہ پڑھ سکتے تھے جب اس مسجد کے اوپر مینار بنانے کی بات انتظامیہ سے کی گئی تو انتظامیہ نے یہی جواب دیا تھا کہ چوں کہ ہمیں کارخانے کے اندر کسی بھی کام کیلئے کوئی بھی جگہ درکار ہوسکتی ہے لہٰذا ہم اسے مسجد نہیں بلکہ جائے نماز کہتے ہیں اور یہ جگہ تبدیل بھی ہوسکتی ہے، بہرحال کمپنی کی انتظامیہ نے انتظامی امور کی غرض سے ایک نئی عمارت جسے صدر دفتر (ہیڈ آفس) کا نام دیا گیا، تعمیر کی اور اس پوری عمارت کو کارخانہ سے علیحدہ کردیا گیا یعنی دیوار کھینچ کر حدود کا تعین کردیا آنے جانے کا راستہ بھی اس عمارت کا الگ بنادیا اور یوں مسجد بھی اس نئی عمارت کی حدود میں رہ گئی چونکہ اب کارخانہ میں جتنے بھی افراد تھے ان کا اس نئی عمارت میں آنا جانا قطعاً ممنوع قرار دیا گیا تو انتظامیہ نے نماز کیلئے دوسری جگہ ایک وسیع اورکشادہ ہال کا انتظام کردیا اور اس ہال کی بھی پوزیشن یہی ہے جو کہ سابقہ نماز پڑھنے کی جگہ کے ساتھ تھی چونکہ چند لوگ جنہوں نے نماز کی جگہ پر قبضہ کی صورت بنائی ہوئی تھی، وہ آذان سے قبل ’’الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ‘‘ وغیرہ پڑھتے تھے اور نماز کے بعد دعا میں جب نماز پڑھانے والا قرآنی آیت ’’ان اﷲ وملائکتہ یصلون علی النبی‘‘ پڑھتا تو کچھ لوگ حق نبی برحق نبی حیات النبی کے الفاظ پڑھتے تھے اور پھر نماز پڑھانے والا دعا میں یہ بھی پڑھتا تھا ’’یا رسول اﷲ انظر حالنا اسمع قالنا‘‘ وغیرہ وغیرہ، تو پہلے بھی دوسری جگہ باقاعدہ مسجد میں نمازِ ظہر ادا کرتے تھے لیکن نماز کیلئے دوسری جگہ تیار کرکے ادارے نے یہ پابندی بھی لگادی کہ نہ تو کوئی نماز کیلئے ادارے سے باہر جائے گا ماسوائے جمعہ کی نماز کے، کہ اس کیلئے باہر جانے کی اجازت دی ہوئی ہے، اور نہ ہی کمپنی کے اندر کسی دوسری جگہ کوئی جماعت ہوگی اب صورتحال یہ ہے کہ ڈیڑھ بجے ایک جماعت ہوتی ہے اور پھر اس نماز کی جگہ یعنی بڑے ہال میں دو بجے وہ افراد باجماعت نماز ادا کرتے ہیں جو کہ مذکورہ بالا افراد کے ہٹ دھرمی والے رویے سے نالاں ہیں، کیا یہ دوسری جماعت کا عمل ٹھیک ہے؟ اور اس دوسری باجماعت نماز کیلئے اقامت بھی کہنا درست ہے یا نہیں؟ جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع دیں۔ جزاک اﷲ
وضاحت: یہ کارخانہ ایک غیر ملکی کارخانہ ہے اور اس کی انتظامیہ بھی غیر مسلم ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جس جگہ کا ذکر ہے اگر وہاں کے ملازمین باہم صلح و مشورہ سے کسی ایسے شخص کا (جو نیک وصالح ہونے کے ساتھ اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتا ہو اورسوال میں مذکورہ بدعات اور موہم شرک باتوں سے مکمل اجتناب کرتا ہو) کا انتخاب کرسکتے ہوں تو یہ بہتر اور افضل ہے اور سب کو اسی ایک شخص کی اقتداء میں نماز باجماعت ادا کرنی چاہئے، اور اگر یہ صورت بالکل ممکن نہ ہو اور حالات میں بھی مزید شدت کی بناء پر لڑائی جھگڑے اور فساد کا خطرہ ہو تو اس صورت میں چونکہ مذکور جگہ مستقل مسجدِ شرعی نہیں ہے، بلکہ فقط نماز کی جگہ ہے تو فتنہ سے بچنے کے لئے حسبِ سابق دو مرتبہ باجماعت نماز ادا کرنے کی بھی گنجائش ہے، پھر دوسری جماعت کیلئے بھی اقامت
کہی جاۓ تو بہتر ہوگا۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1