کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ:
ایک صاحب محلہ کے مسجد کے امام صاحب کو محلے کا تنخواہ دار اور خدمت گار کہتا ہے، جبکہ وہی امام صاحب محلہ کے مسجد کمیٹی کا صدر بھی ہے، اور امام صاحب کو خدمت گار کہنے والا، امام صاحب کو مسجد کے کمیٹی کا صدر تسلیم نہیں کرتا ، خدمت گار کہنے کی وجہ سے۔
شرعی نقطہ نظر سے ایسے شخص کا یہ کہنا کیسا ہے؟ جائز یا ناجائز؟
شخصِ مذکور کا امام موصوف کیلئے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے، اگر معنیٰ حقیقی مراد نہ ہو ، بلکہ کسی غلط مفہوم کی بناء پر اور نیت فاسد سے کہتا ہے، تو اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا درست نہیں، اور اگر نیت فاسد نہ ہو ، بلکہ معنی حقیقی مراد ہو ، تو پھر یہ الفاظ کوئی عیب کی بات نہیں، اس لئے کہ حدیثِ نبوی ﷺ میں ارشاد ہے: ’’سید القوم خادمہم‘‘ قوم کا سردار حقیقت میں قوم کا خادم ہوتا ہے۔ وﷲ اعلم!