گذارش یہ ہے کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک طلاق یافتہ عورت سے ایجاب و قبول کیا تھا , اور اس ایجاب قبول کی وجہ یہ تھی کہ جسمانی تعلق اگر رکھتے ہیں تو وہ جائز ہو ۔
ایجاب و قبول کے لئے ہم نے دو گواہوں کا سہارا لیا جو کہ نہ میرے خاندان سے تھے نہ لڑکی کے خاندان سے تھے اور نہ ہی لڑکی کے گھر والوں کو پتہ تھا , ان گواہوں کی موجودگی کو زیادہ اہمیت دی گئی اور ان کو اس ایجاب و قبول کا مقصد
سیاق و سباق سے ہٹ کر بتایا گیا , کیونکہ لڑکی طلاق یافتہ تھی تو اسے ولی کی ضرورت نہیں تھی۔
وہ دو گواہ میرے دوست تھے جن کے ساتھ میرا رابطہ اب نہیں ہے ,پوچھنا یہ تھا کہ کیا یہ ایجاب و قبول درست ہے ؟اس سے نکاح ہو گیا ہے ؟ کیا ہم میاں بیوی ہیں ؟ کیا ہمارا جسمانی تعلق جائز ہے ؟ کیا یہ کسی زنا کا ارتکاب تو نہیں ؟ رہنمائی کریں-
صورتِ مسئولہ میں سائل،مذکورلڑکی اور دونوں گواہ(عاقل اور بالغ) ایک ہی مجلس میں موجود ہوں ، اور سائل اور مذکور لڑکی نے ایجاب و قبول ان کے سامنے کیا ہو ، اور انہوں نے ایجاب و قبول سنا ہو تو یہ نکاح درست منعقد ہواہے ، اگرچہ مذکور گواہ لڑکے یا لڑکی کے خاندان کے نہ ہوں -
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0