کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ:
دو بندوں کی لڑائی تھی ، ایک تیسرا بندہ وہاں ویسے کھڑا ہوا تھا ،اب جنکی لڑائی تھی تو ان میں سے ایک کو اس تیسرے بندے نے جو جھگڑا نہیں کر رہا تھا کہا کہ "اللہ کا خوف کرو " تو ان دونوں میں سے ایک نے اللہ تبارک و تعالی کو غصہ میں اس طرح گالی دی (نعوذ باللہ) ’’چہ دَ اللہ مینہ غیم ‘‘یعنی اللہ کی بیوی کو چودوں ۔
اب شریعت کی روشنی میں ا س گالی دینے والے شخص کا حکم کیا ہوگا ؟ اس کے نکاح پر اس گالی کی وجہ سے اثر پڑے گا یا نہیں؟
شخصِ مذکور نے اگر واقعۃً سوال میں درج کلمات بولے ہوں تو اگرچہ وہ ان کلمات کے معانی اعتقاد نہ رکھتا ہو تب بھی وہ اپنے مذکور قبیح اور کفریہ الفاظ کی وجہ سے عظمتِ باری تعالیٰ کی توہین کا مرتکب ضرور ہوا ہے ، جس کی وجہ سے شخصِ مذکور دائرۂ اسلام سے خارج ہو گیا ہے، لہٰذا اس پر لازم ہے کہ وہ ندامتِ قلب کے ساتھ بصدقِ دل ایسے قبیح اور گستاخانہ الفاظ پر توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ تجدیدِ ایمان کرے اورآئندہ کیلۓ ایسے گستاخانہ الفاظ دہرانے اور زبان پر لانے سے بھی مکمل احتراز کرے اور تجدیدِ نکاح بھی کرے ۔
فی الھندية : (و منها ما يتعلق بذات الله تعالى و صفاته و غير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به ، أو سخر باسم من أسمائه ، أو بأمر من أوامره ، أو انكر وعده و وعيده،اھ(2/258)۔
و فیھا ایضا : إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمدا لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض أصحابنا لا يكفر و قال بعضهم: يكفر ، و هو الصحيح عندي اھ (2/276)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1