کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ شرع مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ کوئی شخص برسرِ منبر مندرجہ ذیل الفاظ کہے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے ؟
(1)حضرت یوسف علیہ السلام ’’چھڑے‘‘تھے ، یہ لفظ اس طبقہ کے لوگوں کے سامنے کہے جو اس کو برا لفظ سمجھتے ہیں اور شرفاء کے نزدیک اس لفظ کا استعمال کرنا انتہائی معیوب ہے۔
(2) زلیخا بھنگن اور حبشن نہیں تھی ،بلکہ ایک خوبصورت شہزادی تھی ۔
(3) ہمارے جیسا کوئی بھی ہوتا تو مفتی اعظم بن جاتا اور کہہ دیتا کچھ نہ کچھ کرلو۔
وضاحت : یہ لفظ مسجد کے منبر پر ختمِ قرآن کی محفل میں کہے ہیں اور لفظ "چھڑا" کئی مرتبہ استعمال کیا ، یاد رہے کہ اس سلسلہ میں دوسرے مدارس کا فتوی کا عکس بھی سوالنامہ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے ، تفصیلاً جواب عنایت فرمائیں۔
سوال کے ساتھ بھیجی جانے والی کیسٹ کے سننے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذکور مقرر حضرت یوسف علیہ السلام کے اوصاف اور خوبیاں بیان کررہا ہے اور یہ الفاظ بھی بےادبی کے زمرہ میں شمار کرکے نہیں بولے گئے ، اس لۓ بلا وجہ کسی شخص کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے سے احتراز لازم ہے ، جبکہ امام موصوف پر بھی لازم ہے کہ آئندہ کیلۓ اس قسم کے الفاظ بولنے اور استعمال کرنے سے بھی احتراز کرے۔
کمافی تفسير الطبري : القول في تأويل قوله تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَ لا تَجَسَّسُوا وَ لا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ (12) }۔يقول تعالى ذكره : يا أيها الذين صدّقوا الله و رسوله، لا تقربوا كثيرا من الظنّ بالمؤمنين ، و ذلك إن تظنوا بهم سوءا، فإن الظانّ غير محقّ ، و قال جلّ ثناؤه :( اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ ) و لم يقل : الظنّ كله ، إذ كان قد أذن للمؤمنين أن يظن بعضهم ببعض الخير ، فقال :( لَوْلا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَ الْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَ قَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِينٌ ) فأذن الله جلّ ثناؤه للمؤمنين أن يظنّ بعضهم ببعض الخير و أن يقولوه، و إن لم يكونوا من قيله فيهم على يقين.وبنحو الذي قلنا في معنى ذلك قال أهل التأويل.(22/ 303)ز
و فی تفسير القرطبي : قال علماؤنا : فالظن هنا و في الآية هو التهمة . و محل التحذير و النهي إنما هو تهمة لا سبب لها يوجبها ، كمن يتهم بالفاحشة أو بشرب الخمر مثلا و لم يظهر عليه ما يقتضي ذلك . و دليل كون الظن هنا بمعنى التهمة قول تعالى :" و لا تجسسوا " و ذلك أنه قد يقع له خاطر التهمة ابتداء و يريد أن يتجسس خبر ذلك و يبحث عنه ، و يتبصر و يستمع لتحقق ما وقع له من تلك التهمة . فنهى النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك . و إن شئت قلت : و الذي يميز الظنون التي يجب اجتنابها عما سواها ، أن كل ما لم تعرف له أمارة صحيحة و سبب ظاهر كان حراما واجب الاجتناب .(الي قوله) و ذلك إذا كان المظنون به ممن شوهد منه الستر و الصلاح، و أونست منه الأمانة في الظاهر ، فظن الفساد به و الخيانة محرم ، بخلاف من اشتهره الناس بتعاطي الريب و المجاهرة بالخبائث اھ)16/ 331)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1