کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص مسلمان تھا ، اس کا دادا وغیرہ بھی مسلمان تھے ، اور وہ شخص تعلیم یافتہ بھی ہے ، عقیل صاحب اسکول کا ٹیچر ہے اس نے چالیس سال کے بعد اپنی زبان سے اپنے شیعہ ہونے کا اعتراف کیا ہے، جس کا میں حضوری گواہ ہوں۔
وہ شخص صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام سے مو سوم اشتہارات کو اپنی ضد و عناد کی وجہ سے پھاڑتا ہے اور بے حرمتی پر اُترآتا ہے ، خاص پڑو سیوں کے بقول وہ شخص کہتا ہے میری دنیا میں آخری خواہش یہ ہے کہ اپنی بیٹی کے ساتھ جماع کروں، جبکہ وہ بیٹی کمسن ہے چھ سال کی عمر ہوگی اور اس نے اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ میرا مسجد سے کوئی تعلق نہیں ، نہ تو خود کوئی ٹھیک عمل کرتا ہے ،بلکہ اپنے اولاد کو بھی کسی نیک کام کا حکم دیتا نہیں ہے اور تبلیغی حضرات سے بھی سخت متنفر ہے اور نہ ہی وہ ان کی نصیحت و وعظ کو قبول کرتا ہے اور علماءِ دین اور علماءِ حق پر طرح طرح کی تنقید اور طعنہ زنی کرتا ہے سوائے مودودی کے، آپ بتائیں کہ کیا یہ شخص مسلمانوں کے جنازہ اور کفن دفن وغیرہ میں کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اپنے ساتھ کھانے وغیرہ میں شامل کرنے سے روکا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس کو کس فرقہ میں شمار کریں؟
مسلمانوں کے فیصلوں میں اس کی شہادت قبول کی جائےگی یا نہیں؟ اس شخص سے تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے؟ اس کو اپنے تمام معاملات سے روکا جاسکتا ہےیا نہیں؟ قران و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
شخصِ مذکور اگر فاتر العقل اور دیوانہ نہ ہو تو اس کے گمراہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ، اس لیے جب تک وہ اپنے اس طرزِ عمل اور صحابہ کرام کیساتھ بغض و عناد اور اہلِ علم پر بلاوجہ تنقید سے باز نہ آئے اور رافضیت سے توبہ نہ کرے، اس وقت تک اسے مسلمانوں کے کسی معاملہ میں نہ تو شریک کیا جائے، نہ اپنے بچوں کو اس کے پاس تعلیم کے لیے بھیجا جائے اور نہ ہی اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ساتھ بیٹھ کر کھانے پینے کے معاملات انجام دیئے جائیں۔
قال تعالیٰ : ﴿لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَ مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَ يُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَ إِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ ﴾ (آل عمران: 28)۔
و فی تفسير روح المعاني : و حكى الكواشي عن سهل أنه قال : من صحح إيمانه و أخلص توحيده فإنه لا يأنس إلى مبتدع و لا يجالسه و لا يؤاكله و لا يشاربه و لا يصاحبه و يظهر له من نفسه العداوة و البغضاء ، و من داهن مبتدعا سلبه الله تعالى حلاوة السنن ، و من تحبب إلى مبتدع يطلب عز الدنيا أو عرضا منها أذله الله تعالى بذلك العز و أفقره بذلك الغنى اھ(ج14 ص229 دار الكتب العلمية بيروت)۔
و في الصحيح لمسلم : عن هشام عن محمد بن سيرين قال إن هذا العلم دين فانظروا عمن تأخذون دينكم اھ(1/ 14)۔
و في جامع الحدیث : روي ٲن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ٳن اللہ اختارني و اختارلی ٲصحابا ، فجعل منھم وزراء و ٲنصارا ، و ٳنه سیخرج في آخر الزمان قوم ینتقصونھم فلا تؤاکلوھم و لا تشاربوھم و لا تجالسوھم و لا تصلوا علیھم و لا تصلوا معھم (ابن النجار عن ٲنس) اھ(۷/۴۲۳)۔
و في مرقاة المفاتيح : قال : و أجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد و صلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته و بعده ، و رب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه . و في النهاية : يريد به الهجر ضد الوصل ، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب و موجدة ، أو تقصير يقع في حقوق العشرة و الصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين ، فإن هجرة أهل الأهواء و البدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة و الرجوع إلى الحق اھ(ج8 ص3147 دار الفكر، بيروت)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1