نام رکھنے کا حکم

منحہ اور ارحاء نام رکھنا کیساہے؟

فتوی نمبر :
61175
| تاریخ :
0000-00-00
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

منحہ اور ارحاء نام رکھنا کیساہے؟

منحہ اور ارحاء نام کے معنی بتادیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ارحاء (ہمزہ کے نیچے زیر)عربی زبان میں مستعمل نہیں ہے،جبکہ(ہمزہ پر زبر)کے ساتھ عربی میں مستعمل ہے،اور جمع کا صیغہ ہے،جس کی واحد "رحی"آتی ہے،اس کے معنی ہیں چکی،اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے،چنانچہ اگر س کے بجائے ازواج مطھرات اور صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کی جائے تو بہتر ہوگا،جبکہ منحہ کے معنی گفٹ اور عطیہ کے آتے ہیں یہ نام رکھا جا سکتا ہے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 61175کی تصدیق کریں
0     1165
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات