نام رکھنے کا حکم

اللہ تعالی کے صفاتی نام لفظ عبد بڑھائے بغیر رکھنا

فتوی نمبر :
63083
| تاریخ :
2023-03-21
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

اللہ تعالی کے صفاتی نام لفظ عبد بڑھائے بغیر رکھنا

السلام علیکم!
کیا بچے کا نام منان رکھنا حلال ہےیا یہ نام صرف عبدالمنان کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہے؟کیا بچے کا نام حنان رکھنا حلال ہےیا یہ نام صرف عبدالحنان کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اللہ تبارک وتعالٰی کے وہ صفاتی نام جو اللہ کے ساتھ خاص ہیں ،بندوں کے لیے اس کا استعمال جائز نہیں،اگر ان ناموں کے ساتھ کسی کا نام رکھنا ہو ، تو ان کے ساتھ "عبد" لگانا ضروری ہے ،لہذا ان ناموں کو "عبد" کی اضافت کے بغیر استعمال کرنا درست نہیں ،جبکہ سوال میں مذکور اسماء "منان اور حنان"بھی اللہ تعالی کے صفاتی ناموں میں سے ہیں ،اگر کوئی شخص بچہ کیلئے ان ناموں کا انتخاب کرے تو اسے بھی چاہیئے کہ عبدالمنان اور عبدالحنان نام رکھے،البتہ مذکور اسماء صرف اللہ تعالی کے ساتھ خاص نہیں ہیں،بلکہ اور لوگوں کیلئے بھی ان کا استعمال ہوتاہے،لہذا اگر کوئی شخص صرف منان یا حنان نام رکھے تو بھی اس میں کوئی حرج نہیں،البتہ ان کے ساتھ بھی عبد لگانا بہتر ہے۔واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 63083کی تصدیق کریں
0     1433
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات