السلام علیکم
گذارش ہے کہ میرے شوہر کا ابھی دو ماہ پہلے انتقال ہوا ہے میری دو بیٹیاں ہے , میری شادی کو 14 سال ہو گئے ہیں , 14 سال سے ہم کرائےکے مکان میں رہتے ہیں۔
کیونکہ شادی کے بعد سسر نے ہمیں اپنے گھر سے نکال دیاتھا , شوہر حیات تھے کہ میں بھی جاب کرتی تھی کیونکہ صرف شوہر کے سیلری پر گزارا نہیں ہوتا تھا ,اب میرے پاس میری سیلری کے علاوہ کچھ نہیں ہے , اب میں بہت مجبور ہوں کہ بچوں کی کفالت کروں یا گھرکیلئےکچھ کروں ؟ اب میرے شوہر کی کمپنی سے پیسے ملنے ہیں , تو کیا اس صورت میں میرے سسر کا حصہ بنتا ہے وہاں سے ؟ جبکہ میرے سسر کی پینشن بھی آتی ہے اور اسکے چار بیٹے موجود ہیں ابھی انکی کفالت کےلیے , جب سے ہم کو گھر سے نکلا ہے 14 سال سے , انہوں نے کسی بھی قسم کی مدد ہمارے ساتھ نہیں کی , اور آج میرے شوہر کو دوماه ہو گئے تو بس سوئم کو آئے تھے ,اس کے بعد آج تک گھر نہیں آئے کوئی خیریت نہیں پوچھی , نہ میرا پوچھا نہ بیٹیوں کا , اور یہ بھی نہیں بولا کہ ہمارے ساتھ رہو ,تو شرعی طور پر میرے سسر کا حصہ بنتا ہے میرے شوہر کی کمپنی سے؟ جب کہ میں کرائے کے گھر میں ہوں اپنی بیٹیوں کے ساتھ , اور ابھی تک اکیلے بیٹیوں کی کفالت کر رہی ہوں , میرا کوئی سہارا نہیں ہے , میں ہوں اور دو بیٹیاں ہیں , سیلری میں اپنا گزارا کروں ؟ بیٹیوں کا یا مکان کا کرایا دوں ؟میرا کوئی بیٹا نہیں ہے , مہربانی فرما کر مجھے اس مسلہ کا حل ببتائیں کہ میرے شوہر کے پیسوں پر کس کا حق ہے ؟ آپکی بہت مہربانی ہوگی۔
نوٹ :سائلہ کا سوال گریجویٹ فنڈ کے بارے میں ہے ۔
واضح ہو کہ میت کے ترکہ میں جس طرح اولاد اور بیوی کا حق ہوتا ہے ،اسی طرح ان کے والدین میں سے اگر کوئی زندہ ہو تو ان کا بھی حق ہوتا ہے ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم شوہر کا جو بھی ترکہ ہے ،چاہے وہ متعلقہ کمپنی سے ملنے والی رقم ہو یا دیگر مالو جائیداد ، ان سب میں سائلہ اور ان کے بچوں سمیت سائلہ کا سسر بھی اپنے حصۂ شرعی کا حقدار ہے ، تاہم مذکور کمپنی اپنی طرف سے سائلہ کو نامزد کرکے جو رقم بطورِ تبرع دے ،تو اس رقم میں وراثت جاری نہ ہوگی ،بلکہ وہ رقم صرف سائلہ کی ملکیت ہوگی،لہٰذا اس رقم میں سائلہ کے سسر اور بچیوں کا کوئی حق نہیں ہوگا ،جبکہ مرحوم شوہر کی جو دو بیٹیاں ہیں ،ان کی عمر نو سال ہونے تک ان کی پرورش کی حقدار سائلہ ہے ،بشرطیکہ اس دوران سائلہ ان بچیوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے ،ورنہ اس کا حق پرورش ختم ہوکر ان بچیوں کی نانی یا نانی نہ ہو تو دادی اور خالہ کو حاصل ہوگا ،تاہم دورانِ پرورش ان بچیوں کے اخراجات ان کے اپنے حصۂ میراث سے ادا کیے جائیں گے ،لیکن اگر حصۂ میراث کافی نہ ہو ،تو پھر ان کے اخراجات سائلہ اور سسر پر لازم ہونگے ،چنانچہ ایک ثلث سائلہ پر اور دو ثلث ان بچیو ں کے دادا (سائلہ کے سسر )پر لازم ہونگے ،البتہ مذکور مدت کے بعد اگر دادا ان بچیوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہے ،تو لے سکتا ہے ۔
کما فی القرآن الکریم :وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ اھ (النساء /11)۔
في بدائع الصنائع:لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام – من ترك مالا أو حقا فهو لورثته»ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل اھ(7/57)
وفی رد المحتار: إن المدرس لو مات أو عزل في أثناء السنة قبل مجيء الغلة وظهورها من الأرض، يعطى بقدر ما باشر، ويصير ميراثا عنه كالأجير إذا مات في أثناء المدة، ولو كانت صلة محضة لم يعط شيئا لأن الصلة لا تملك قبل القبض بل تسقط بالموت قبله،اھ(4/435)۔
و فی الشامیۃ :(وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا۔۔۔ قلت: اعلم أنه إذا مات الأب فالنفقة على الأم والجد على قدر ميراثهما أثلاثا في ظاهر الرواية،اھ(3/614)۔
وفی الدر المختار : (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.(الی قولہ ) (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى.(3/566)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1