احکام وراثت

جی پی فنڈ میں وراثت کا حکم

فتوی نمبر :
65534
| تاریخ :
2023-06-20
معاملات / ترکات / احکام وراثت

جی پی فنڈ میں وراثت کا حکم

السلام علیکم
گذارش ہے کہ میرے شوہر کا ابھی دو ماہ پہلے انتقال ہوا ہے میری دو بیٹیاں ہے , میری شادی کو 14 سال ہو گئے ہیں , 14 سال سے ہم کرائےکے مکان میں رہتے ہیں۔
کیونکہ شادی کے بعد سسر نے ہمیں اپنے گھر سے نکال دیاتھا , شوہر حیات تھے کہ میں بھی جاب کرتی تھی کیونکہ صرف شوہر کے سیلری پر گزارا نہیں ہوتا تھا ,اب میرے پاس میری سیلری کے علاوہ کچھ نہیں ہے , اب میں بہت مجبور ہوں کہ بچوں کی کفالت کروں یا گھرکیلئےکچھ کروں ؟ اب میرے شوہر کی کمپنی سے پیسے ملنے ہیں , تو کیا اس صورت میں میرے سسر کا حصہ بنتا ہے وہاں سے ؟ جبکہ میرے سسر کی پینشن بھی آتی ہے اور اسکے چار بیٹے موجود ہیں ابھی انکی کفالت کےلیے , جب سے ہم کو گھر سے نکلا ہے 14 سال سے , انہوں نے کسی بھی قسم کی مدد ہمارے ساتھ نہیں کی , اور آج میرے شوہر کو دوماه ہو گئے تو بس سوئم کو آئے تھے ,اس کے بعد آج تک گھر نہیں آئے کوئی خیریت نہیں پوچھی , نہ میرا پوچھا نہ بیٹیوں کا , اور یہ بھی نہیں بولا کہ ہمارے ساتھ رہو ,تو شرعی طور پر میرے سسر کا حصہ بنتا ہے میرے شوہر کی کمپنی سے؟ جب کہ میں کرائے کے گھر میں ہوں اپنی بیٹیوں کے ساتھ , اور ابھی تک اکیلے بیٹیوں کی کفالت کر رہی ہوں , میرا کوئی سہارا نہیں ہے , میں ہوں اور دو بیٹیاں ہیں , سیلری میں اپنا گزارا کروں ؟ بیٹیوں کا یا مکان کا کرایا دوں ؟میرا کوئی بیٹا نہیں ہے , مہربانی فرما کر مجھے اس مسلہ کا حل ببتائیں کہ میرے شوہر کے پیسوں پر کس کا حق ہے ؟ آپکی بہت مہربانی ہوگی۔
نوٹ :سائلہ کا سوال گریجویٹ فنڈ کے بارے میں ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ میت کے ترکہ میں جس طرح اولاد اور بیوی کا حق ہوتا ہے ،اسی طرح ان کے والدین میں سے اگر کوئی زندہ ہو تو ان کا بھی حق ہوتا ہے ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم شوہر کا جو بھی ترکہ ہے ،چاہے وہ متعلقہ کمپنی سے ملنے والی رقم ہو یا دیگر مالو جائیداد ، ان سب میں سائلہ اور ان کے بچوں سمیت سائلہ کا سسر بھی اپنے حصۂ شرعی کا حقدار ہے ، تاہم مذکور کمپنی اپنی طرف سے سائلہ کو نامزد کرکے جو رقم بطورِ تبرع دے ،تو اس رقم میں وراثت جاری نہ ہوگی ،بلکہ وہ رقم صرف سائلہ کی ملکیت ہوگی،لہٰذا اس رقم میں سائلہ کے سسر اور بچیوں کا کوئی حق نہیں ہوگا ،جبکہ مرحوم شوہر کی جو دو بیٹیاں ہیں ،ان کی عمر نو سال ہونے تک ان کی پرورش کی حقدار سائلہ ہے ،بشرطیکہ اس دوران سائلہ ان بچیوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے ،ورنہ اس کا حق پرورش ختم ہوکر ان بچیوں کی نانی یا نانی نہ ہو تو دادی اور خالہ کو حاصل ہوگا ،تاہم دورانِ پرورش ان بچیوں کے اخراجات ان کے اپنے حصۂ میراث سے ادا کیے جائیں گے ،لیکن اگر حصۂ میراث کافی نہ ہو ،تو پھر ان کے اخراجات سائلہ اور سسر پر لازم ہونگے ،چنانچہ ایک ثلث سائلہ پر اور دو ثلث ان بچیو ں کے دادا (سائلہ کے سسر )پر لازم ہونگے ،البتہ مذکور مدت کے بعد اگر دادا ان بچیوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہے ،تو لے سکتا ہے ۔



مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن الکریم :وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ اھ (النساء /11)۔
في بدائع الصنائع:لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام – من ترك مالا أو حقا فهو لورثته»ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل اھ(7/57)
وفی رد المحتار: إن المدرس لو مات أو عزل في أثناء السنة قبل مجيء الغلة وظهورها من الأرض، يعطى بقدر ما باشر، ويصير ميراثا عنه كالأجير إذا مات في أثناء المدة، ولو كانت صلة محضة لم يعط شيئا لأن الصلة لا تملك قبل القبض بل تسقط بالموت قبله،اھ(4/435)۔
و فی الشامیۃ :(وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا۔۔۔ قلت: اعلم أنه إذا مات الأب فالنفقة على الأم والجد على قدر ميراثهما أثلاثا في ظاهر الرواية،اھ(3/614)۔
وفی الدر المختار : (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.(الی قولہ ) (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى.(3/566)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حشمت علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 65534کی تصدیق کریں
0     631
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات