میرے والدین وفات پاچکے ہیں , ان کی چھوڑی گئی املاک میں دو گھر ہیں جن کا کرایہ میرے دو بھائی وصول کرتے ہیں اور اپنے گھریلو اخراجات اس رقم سے پورے کرتے ہیں۔بھائی الحمداللہ جوان بچوں کے باپ بھی ہیں -
سوال یہ ہے کہ والدین کی وفات کے بعد ہم بہنیں جو کہ اپنے گھروں میں شوہر اور بچوں کے ساتھ رہتی ہیں , اس کرایہ کی رقم کی حقدار ہیں یا نہیں ؟ والدین کی کوئی بھی وصیت اس حوالےسے موجود نہیں۔
سائلہ کے والدین مرحومین نے اپنے ترکےمیں جو مکانات چھوڑے ہیں ،اس میں مرحومین کے بیٹوں کی طرح سائلہ اور اس کی بہنیں بھی اپنے شرعی حصوں کے بقدر حصہ دار ہیں، لہذا سائلہ اور اس کی بہنوں کیلئے اپنے بھائیوں سے مذکور مکانات میں اپنے شرعی حصوں ،یا اگر سائلہ اور اس کی بہنیں ان مکانات کو کرایہ پر دینے پر رضامند ہوں تو اپنے حصوں کے بقدر کرائے کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ،سائلہ کے بھائیوں کا کرایہ کی پوری رقم پر قابض ہو کر بہنوں کو ان کا حصہ نہ دینا شرعاً ظلم اور غصب ہونے کی وجہ سے درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ۔
فی مشکوۃ المصابیح : عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیٰمۃ (266)-
و فی شرح المجلۃ : الاموال المشترکۃ شرکۃ الملک تقسم حاصلاتھا بین اصحابھا علیٰ قدر حصصھم (4/1)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1