السلام علیکم
میرا نام درخشاں منظور ہے ، یہ سوال میں اپنی ماں (نسیم منظور) کی طرف سے پوچھ رہی ہوں، میری ماں کے نام ایک مکان ہے، وہ بیمار رہتی ہیں, دل کی،شوگرکی،بی پی کی مریض ہیں، اُن کے 3 بھائی زندہ ہیں، شادی شدہ بچوں والے (باقی ایک بھائی اور ایک بہن کا انتقال ہوگیا) جن میں سے ایک سے نہیں ملتے کسی وجہ سے، ایک سے بہت کم آنا جانا ہے , جیسے سال دو سال میں ایک بار مشکل سے، اور آخری والے ایک مہینے میں ایک بارآتے ہیں، میری ماں بیوہ ہیں، اُنکی دو اولادیں ہیں ایک بیٹا(شارق منظور ، عمر 24 سال،کنوارہ)اور ایک بیٹی (یعنی میں ،درخشاں منظور ، عمر 22 سال، کنواری) اب میری ماں کے سب سے چھوٹے بھائی (باقی بار بار نہیں کہتے)اور اُن کے بچے (3 بیٹے،1بیٹی ،سب تیس سال سے زیادہ کے ہیں اور شادی شدہ ہیں)وہ کہتے ہیں کہ جب میری ماں کا انتقال ہوگا تو اُس کے بعد وہ میری ماں کے نام جو مکان ہے اُس کے حصے دار ہیں اور وہ اُنکو اس بات کی ٹینشن دے رہے ہیں , کہہ رہے ہیں کہ ایسا شریعت میں لکھا ہے , تو میری ماں اس بات کے بعد سے اور بھی زیادہ بیمار ہیں, اور یہ معلوم کرنا چاہتی ہیں کہ کیا ایسا ممکن ہے جو بھائی زندگی میں کبھی نہیں پوچھتے کہ کھانے کو ہے کہ نہیں، اگر کبھی عیدپر عیدی دیتے، تو پورے خاندان میں بتا کے دیتے ، وہ مرنے کے بعد اُس کے بچوں کو روڈپر بٹھادیں، یہ کہہ کر کہ ہم حصےدار ہیں، شریعت کے مطابق , کیا اسلام میں اس بات کی اجازت ہے کہ اپنی اولاد ہونے کے بعد بھی ایسے بھائی اور اُن کے بچے حقدار ہیں تو کیا ایسا ہے؟ رہنمائی فرما دیں کہ کیا کرنا چاہیئے ؟ کیونکہ میری ماں بیوہ ہے، اور اُن کے پاس تو اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے،ہم بہت پریشان ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت میں بھی لے کر جائیں گے، اور ہم پر کیس کریں گے، عدالت اُن کے حق میں فیصلہ دیگی، اور ہم لوگ تو غریب ہیں ہم تو وکیل کی فیس بھی نہیں دے سکتے، ہم کیا کریں؟ شکریہ
صورتِ مسئولہ میں مذکور مکان اگر واقعۃً تنہا سائلہ کی والدہ کی ذاتی ملکیت ہو ، اس میں سائلہ کے ماموں کا کوئی حصہ شامل نہ ہو تو ایسی صورت میں مذکور ماموں اور اسکی اولاد کا سائلہ کی والدہ کو بلا وجہ تنگ کرنا اور وفات کے بعد اُنکے بچوں (سائلہ اور اسکے بھائی) کے خلاف عدالت میں کیس دائر کرنے کی دھمکی دینا شرعاً جائز نہیں، انہیں اپنے ناجائز مطالبہ اور غلط طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ سائلہ کی والدہ کے انتقال کے وقت اگر سائلہ کا بھائی زندہ ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کے ماموؤں کا ترکہ میں شرعاً کوئی حق نہ ہوگا اور نہ ہی عدالت میں جھوٹا مقدمہ کرنا شرعاً جائز ہوگا۔
کما فی مرقاة المفاتیح : عن ابی حرة الرقاشی عن عمه قال قال رسول اللہﷺ الا لاتظلموا الا لایحل مال امرئ الا بطیب من نفس منه ، لایحل مال امرئ ای مسلم او ذمی الا بطیب نفس ای بامر او رضا منه۔الحدیث (4/ 149)-
و فی الدر المختار : لايجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه و لا ولايته۔اھ (6/200)-
و فی السراجی فی المیراث : ھم اربعة اصناف ، جزء المیت و اصله و جزء ابیه و جزء جده ، الاقرب فالاقرب , یرجحون بقرب الدرجة اعنی اولاھم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوھم و ان سفلوا (الی قوله) ثم جزء ابیه ای الاخوة۔اھ (ص:53)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1