مفتی صاحب السلام وعلیکم !
میرے والدِمحترم کی 1992 میں وفات ہو چکی ہے،انہوں نے اپنی زندگی میں ایک10 مرلہ کا گھر بنوایا , جس کا 5 مرلہ انکے نام پر تھا، جبکہ 5 مرلہ میری والدہ ماجدہ کے نام پر ہوا , جو کہ ابھی حیات ہیں،والدِ محترم کی وفات کے بعد ہمارے ایک بھائی کی 2008 میں وفات ہوئی، تو جب انکی بیوہ اور بچوں کو وراثت تقسیم کی گئی تو تب ہمارے نانا جان نے کہا کہ ہمارے والد ِمحترم نے ٹیکس بچانے کیلئے پلاٹ کے حصے کر کے آدھا پلاٹ اپنی بیگم (ہماری والدہ) کے نام کروایا اور آدھا پلاٹ اپنے نام پر رکھا , تو چونکہ پلاٹ ٹیکس سے بچنے کے لئے نام کروایا گیا تھا، اس لئے یہ مکمل گھر وراثت میں شامل ہے،(یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ گھر بنوانے کے دوران ہمارے نانا جان نے والدِمحترم کا وقتاًفوقتاً مالی تعاون بھی کیا) مگر ہمارے سب سے بڑے بھائی نے انکی اس بات سے اتفاق نہیں کیا، اور یوں بیوہ اور بچوں کو 5 مرلہ مکان جو کہ والد مرحوم کے نام تھا اس سے حصہ ادا کردیا گیا ، اسکے کچھ عرصہ بعد نانا بھی وفات پاگئے، والدہ کے بقول والد صاحب نے یہ تذکرہ تو کیا تھا کہ میں نے آدھا پلاٹ یعنی 5 مرلہ کی رجسٹری آپ (والدہ) کے نام کرادی ہے تاکہ رجسٹریشن ٹیکس کی بچت ہو جائے مگر پھر اپنی وفات تک صراحت کے ساتھ اسکی وضاحت نہیں کی کہ یہ صرف عارضی مصالحت کے تحت کیا تھا یا پھر مستقل طور انکو (والدہ) کو دے دیا تھا،اب ملکی مروجہ قوانین کے تحت تو والدہ ماجدہ جو کہ حیات ہیں یہ 5 مرلہ مکان انہی کی ملکیت ہے اور انکی زندگی کے دوران میں انکے وفات پا جانے والے بچوں کا اس میں کوئی وارثتی حصہ نہیں بنتا، مگرآپ سے سوال یہ ہے کہ آیا شرعی اعتبار سے کیا یہ پورا مکان یعنی 10 مرلہ بشمول والدہ کے نام 5 مرلہ والد کی وراثت تصور کیا جائے گا یا آدھا مکان یعنی صرف 5 مرلہ جو والدِ مرحوم کے نام تھا وہ وارثین کا حق ہوگا؟جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ کوئی چیز فقط کسی کے نام کرا دینے سے شرعاً اسکی ملکیت نہیں بنتی،جب تک کہ اسے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ نہ دیا جائے، لہٰذا مذکور دس مرلے مکان اگر والدِ مرحوم کی ذاتی ملکیت تھا،اس میں سائل کی والدہ کی کوئی شراکت نہ تھی تو ایسی صورت میں سائل کے والد ِمرحوم نے ٹیکس سے بچنے کیلئے پانچ مرلہ مکان اگر فقط اپنی بیوی کے نام کیا ، اسے اس پانچ مرلہ حصہ پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو , تو ایسی صورت میں شرعاً سائل کی والدہ مذکور پانچ مرلہ حصہ کی مالکہ نہ ہوگی،بلکہ یہ پورا مکان والدِ مرحوم کی وفات تک بدستور اسکی ملکیت رہا،جو کہ مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعیہ تقسیم ہوگا۔
کما فی الهندية : و منها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة و أن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا و لا مشغولا بغير الموهوب اھ (4/374)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1