ترکہ کی تقسیم کیسے کی جائے؟ایک خاتون کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، شوہر حیات ہیں، ایک بیٹا ہے ، چھ بیٹیاں ہیں ،۱یک بیٹی کی وفات کو ۱۰ سال ہو گئے ہیں ، ایک بیٹی غیر شادی شدہ ہے ،ایک بیٹی کو اپنی بہن کو دے دیا تھا،اور تین شادی شدہ ہِیں، وفات شدہ بیٹی سے ایک نواسی ہے، جس کو اس کے تایا پال رہے ہیں ، اور باپ نے دوسری شادی کرلی ہے ، جس بیٹی کو اپنی بہن کو دیا تھا اس کی شادی اور دیگر اخراجات بھی بہن یعنی خالہ نے ہی کئے ہیں ، غیر شادی شدہ بیٹی خود جاب کرتی ہے , شوہر صحت مند ہیں اور کوئی جاب نہیں کرتا ،ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟ ایصالِ ثواب کے لئے بھی کچھ حصہ مختص کیا جائے ، خاتون گورنمنٹ جاب کرتی تھی، اور ان کی پنشن کی رقم ابھی نہیں ملی، کیا وہ رقم بھی ترکہ کا حصہ ہو گی؟
واضح ہو کہ ملازم کو ادارہ کی طرف سے ملنے والے مختلف فنڈز کا ترکہ میں شامل ہونے یا نہ ہونےکیلئے ضابطہ یہ ہے، کہ اگر ملازم اپنی زندگی میں اس فنڈز کا مالک یا مستحق بنا تھا تو اس کی وفات کے بعد وہ فنڈز باقی ترکہ کے ساتھ شامل ہوکر اس کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ،اور اگر ملازم زندگی میں اس کا مستحق نہیں بنا تھا ،تو یہ رقم ترکہ شمار نہ ہوگی ،بلکہ ادارہ جس کے نام جاری کرے گا شرعاً وہی اس کا مالک شمار ہوگا -
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور ادارہ سے ملنے والے پنشن میں مذکور بالا تفصیل کے مطابق عمل کیا جائے گا ۔
جبکہ مذکور مرحومہ خاتون کی جو بیٹی اس کی زندگی میں وفات پا گئی ہے ،اس کو یا اس کی اولاد کو ترکہ میں سے کچھ نہیں ملے گا،البتہ اگر ورثاء اس کی اولاد کو اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہیں ،تو اس کا انہیں اختیار حاصل ہے ،مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ۔
اس کے واضح ہوکہ مرحومہ خاتون کے ورثاء یہی ہوں ،اور والدین کا انتقال مرحومہ سے پہلے ہوچکا ہو تو مرحومہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کرکےاس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل(28)حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحومہ کے شوہر کو (7) حصے ، بیٹے کو (6) حصےاور ہر بیٹی کو (3)حصے،اور ہر بہن کوایک (1)حصہ دیا جائے-
قال اللہ تعالی : لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ وَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (النساء /7)۔
و فی بدائع الصنائع : لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته»(7/57)۔
و فی رد المختار : و من حيث إن المدرس لو مات أو عزل في أثناء السنة قبل مجيء الغلة و ظهورها من الأرض ، يعطى بقدر ما باشر ، و يصير ميراثا عنه كالأجير إذا مات في أثناء المدة ، و لو كانت صلة محضة لم يعط شيئا لأن الصلة لا تملك قبل القبض بل تسقط بالموت قبله ، اھ (4/432)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1