السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مرحوم کی ایک بیٹی ہےاور ایک زوجہ، نرینہ اولاد نہیں ہے، تو کیا نصف بیٹی کو ملے گااور ربع زوجہ کو ؟ کیا اس میں چچا بھی شریک ہوگا جبکہ وہ سگا چچا نہیں ہے، وہ بھی حصہ مانگ رہا ہے، مکمل و مدلل وضاحت فرما دیں! شکریہ۔
صورتِ مسئولہ میں اگرمرحوم کے والدین پہلے ہی انتقال کر چکے ہوں اور مرحوم کے حقیقی بھائی یا ان کی نرینہ اولاد ، یا باپ شریک بھائی یا اس کی نرینہ ا ولاد نہ ہو ، اسی طرح حقیقی چچا یا اُنکی نرینہ اولاد نہ ہو ، بلکہ صرف مذکور چچا موجود ہو اور یہ چچا علاتی (باپ شریک) ہو تو ایسی صورت میں اسکو بھی مرحوم کے ترکہ میں سے حصہ ملے گا ، جس کا طریقہ کار بوقتِ ضرورت ورثاءکی تفصیل ذکر کرکے معلوم کیا جا سکتا ہے،تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کردیں، ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
في السراجي : أما العصبة بنفسه فکل ذکر لاتدخل في نسبته الى الميت انثىٰ و هم اربعة اصناف ، جزء الميت و اصله و جزء ابيه و جزء جده الاقرب فالاقرب ، یرجحون بقرب الدرجة عنى أولٰھم بالميراث ، (الی قوله) ثم جزء جده ای الاعمام (الی قوله) و كذلك الحكم في اعمام ثم فی اعمام ابیه ثم فی اعمام جده ۔اھ (ص:14)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1