اگر لڑکی لڑکا دل سے ،اللہ کو گواہ بنا کر اور حق مہر طے کر کے تین بار قبول کریں تو یہ نکاح ہو گیا ؟یا کسی انسان کا گواہ ہونا ضروری ہے ؟یہ صرف میسج میں لکھا ہے کہ ہم نے قبول کیا ،تو یہ نکاح ہو گیا ؟
صحتِ نکاح کے لۓ متعاقدین (لڑکا لڑکی) کا باقاعدہ مجلسِ نکاح میں ، گواہوں کی موجود میں ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے، اللہ کو گواہ بنا کر ایجاب و قبول کرنے سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوتا ، بلکہ لڑکا لڑکی بدستور ایک دوسرے کے لۓ اجبنی ہی رہیں گے، اس لۓ اس کو بنیاد بناکر کسی نامحرم لڑکے سے بے تکلفی اختیار کرنا یا کوئی جسمانی تعلق قائم کرنا شرعاً ناجائز اور زناکے زمرے میں آنے کی وجہ سے حرام ہوگا ، جس سے بالکلیہ اجتناب لازم ہے۔
و فی التنویر مع شرحہ الدر : (و) شرط (حضور شاہدین (حرین) او حر و حرتین (مکلفین سامعین قولہما معا) الخ (ج۳، ص۳۱)۔
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0