کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 1989 میں میرے والد صاحب کا ا نتقال ہوا، بوقت انتقال ان کی ملکیت میں ایک جائیداد تھی جو میرے دادا ا بو نے ا پنی زندگی میں میرے والد کو باقاعدہ قبضہ کے ساتھ دی تھی ،والد کے انتقال کے بعد دسمبر 1989 میں گورنمنٹ نے مذکور جائیداد رجسٹر کرنے کو کہا ،اور اس وقت ہم اٹھارہ سال سے کم عمر کے تھے ،اور والدہ ہماری نگران تھی ،تو اس لئے مذکور جائیداد قانو نی طورپر میری والدہ کے نام کردی گئی ، اس کے بعد 2022 میں میری ایک بہن کا ا نتقال ہوا ،لیکن اس کی اولاد حیات ہے،اب بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جائیداد چونکہ اب والدہ کے نام ہے اس لئے والدہ کو اختیار ہے کہ وہ اپنی بیٹی جس کا ا نتقال والد صاحب کے بعد ہوا ہے اس کی اولاد کو جائیداد میں سے حصہ دے یا نہ دے ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس جائیداد میں میری بہن کے بچوں کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟میری بہن کے دوبچے ہیں ،جبکہ میری بہن کے شوہر نے میری بہن کو طلاق دے دی تھی ۔
سائل کے دادا ا بو نے اپنی زندگی میں اگرمذکور جائیداد سائل کے والد کے نام کرکے اسے اس پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا (جیساکہ سوال میں مذکور ہے) تو ایسی صورت میں وہ جائیداد شرعاً سائل کے والد کی ملکیت بن چکی تھی ،چنانچہ 1989 میں سائل کے والد کے ا نتقال کرجانے کی صورت میں مذکور جائیداد سائل کے والد مرحوم کاترکہ بن چکی ہے جوکہ دیگر ترکے کی طرح مرحوم کے انتقال کے وقت موجود تمام ورثاء کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم کرنا ضروری ہے،لہذا مذکور جائیداد ا گرچہ سائل کے والد مرحوم کی وفات کے بعد سائل کی والدہ کے نام کی گئی ہے ،لیکن چونکہ یہ والد مرحوم کا ترکہ ہے ،اور سائل کی مرحومہ بہن، والد کی وفات کے وقت حیات تھی اس لئے شرعاً مذکور جائیداد میں سائل کی مرحومہ بہن کا بھی حصہ ہوگا ، جو کہ اب مرحومہ کی وفات کے بعد مرحومہ کے بچوں کو دیا جائے گا۔
فی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها اھ (5/690)۔
و فی الفتاوى الهندية :و منها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب اھ 374/3)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1