جناب مفتی صاحب السلام علیکم!کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں مرحوم عبدالشکور کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،بچوں کی شادیاں کیں دونوں بچیاں رخصت ہو کر اپنے گھر چلی گئی، مرحوم عبدالشکور نے ترکہ میں سرکاری کاغذ کے مطابق دو مکان چھوڑے ہیں ، شہر میں ایک مکان تھا اور لطیف آباد میں ایک مکان تھا، مرحوم عبدالشکور کے دونوں بیٹے شہر والے مکان میں رہ رہے تھے بعد میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے بڑا بیٹا لطیف آباد والے مکان میں شفٹ ہو گیا چھوٹا بیٹا شہر میں رہا شہر کا مکان چونکہ خستہ حال تھا تو چھوٹے بیٹے نے اپنی والدہ اور اپنے بھائی دونوں بہنوں کے علم میں لا کر شہر والے مکان کو گرا کر زمین سے اپنی ذاتی رقم سے تعمیر کیا، کسی بھی بہن بھائی نے کسی قسم کی کوئی مالی مدد نہیں کی عبدالشکور کے انتقال کے 27 سال بعد جب وراثت کی تقسیم کا معاملہ آیا تو بہن اور بھائی عبدالشکور کے چھوٹے بیٹے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ ابا کے مکان میں رہے ہیں لہذا جتنا عر صہ آپ اس مکان میں رہے ہیں اتنے عرصے کا کرایہ بھی وراثت کے ساتھ ادا کریں معلوم یہ کرنا ہے از روئے شریعت بہنوں اور بھائی کا وراثت کے ساتھ کرائے کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
مرحوم عبد الشکور کی بیوہ،بڑے بیٹے ،اور بیٹیوں نے اگر مرحوم کے چھوٹے بیٹے کیساتھ ترکے کے مکان میں رہائش اختیار کرنے پر ابتداءً کرایہ کے متعلق کوئی بات اور معاہدہ نہیں کیاتھا،تواب مرحوم کی بیوہ ،بڑے بیٹے اور بیٹیوں کیلئے شرعاً مرحوم کے چھوٹے بیٹے سے گزشتہ عرصے کے کرایہ کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں ۔
کما فی البدائع الصنائع : أن المنافع في الأصل لا قيمة لها على أصول أصحابنا والأصل فيها أن لا تكون مضمونة؛ لأن الشيء يضمن بمثله في الأصل والعرض لا يماثل العين ولهذا قالوا إنها لا تضمن بالغصب والإتلاف إلا أنها تتقوم بالعقد بطريق الضرورة ولحاجة الناس (5/12)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1