السلام علیکم !
میرا نام محمد عدنان چوہدری ہے ، ہم چار بھائی اور چار بہنیں ہیں، والدین بھی الحمدللہ حیات ہیں ، اس وقت ہمارے گھر میں بہت زیادہ گھریلو ناچاقیاں ہوچکی ہیں ، بہن بھائیوں میں اس حد تک کہ محلے کے معزز حضرات نے بھی مشورہ دیا کہ آپ لوگ اپنے حصے کرلیں ، ہمارا ایک ہی گھر چار فلور پر مشتمل ہے جس میں ہم بھائی رہتے ہیں ، والد صاحب نےاپنی کمائی سے 4 فلور میں سے 2.5 فلور بنائے تھے ، باقی آدھا فلور ایک بھائی نے بنایا اور آخری فلور دوسرے بھائی نے بنایا جس میں کسی دوسرے بھائی اور باپ کا کوئی پیسہ نہیں لگاہے ، اب معزز لوگوں نے فیصلہ کیا ہے جہاں تک باپ نے بنایا ہے اس کے حصے ہونگے ، جو فلور جس بھائی نے بنایا ہے وہ ان پیسوں کو نکال کر حصے کیے جائیں، مثال کےطور پرگھر کی ابھی کی مالیت ایک کروڑ 60 لاکھ روپے ہے اس کو چار فلور پر تقسیم کریں تو پہلی فلور کی مالیت 40 لاکھ بن جاتی ہےاور جس بھائی نے اپنے پیسوں سے پورا پورشن بنایا ہے اس کو40لاکھ اور جس نے آدھا بنایا ہے اس کو 20 لاکھ (دیا جائے )، باقی ایک کروڑ کو آٹھ حصوں میں برابر تقسیم کیا جائے ، جس میں سے 4 حصے بھائیوں ، دو حصے بہنوں اور ایک ایک حصہ والد ،والدہ کا۔
اس پر والد صاحب کا اعتراض ہے کہ میں کسی کو کچھ نہیں دوں گا، جس نے خود بنایا ہے اس کو بھی کچھ نہیں دونگا نہ ہی اس کا لگایا ہوا اور نہ ہی اس کا حصہ ، تو اس معاملے پر فیصلہ ہوا کہ فتویٰ لیا جائے ، آپ کی مہربانی ہوگی اس معاملے پر روشنی ڈال دیں تاکہ ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکیں ۔ جزاک اللہ
نوٹ: مذکور بھایئوں نے گھر میں پورشن کی تعمیرات کے وقت قرض وغیرہ کی کوئی صراحت نہٰیں کی تھی۔
واضح ہوکہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے تمام مال وجائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرسکتاہے ، اس کی زندگی میں اس کی اولاد یا کسی اور کا شرعاً اس کی جائیداد میں کوئی حق نہیں ہوتا ، لہذا سائل کے والد نے مذکور مکان کا جتنا حصہ اپنے ذاتی کمائی سے بنوایا اور تعمیر کروایا ہے وہ تو اس کی ذاتی ملکیت ہے اس میں سائل کے والد کی زندگی میں اس کی بیوی یا اولاد کا شرعاً کوئی حصہ نہیں ، چنانچہ سائل اور اسکے دیگر بہن بھائیوں کےلئے اپنے والد سے حصے کے مطالبے کا شرعاً کوئی حق نہیں۔
جبکہ مذکور مکان کا بقیہ حصہ جن بیٹوں نے اپنی ذاتی مال سے تعمیر کرایا ہے ، اس کے متعلق سوال میں یہ وضاحت موجو د نہیں کہ یہ انہوں نے اپنی ذاتی ملکیت اور رہائش کی عرض سے تعمیر کرایا ہے ، یا والد کے ساتھ بطورِ امداد و تعاون انہوں نےایسا کیا ہے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر انہوں نے اپنی ذاتی ملکیت کی نیت و رادے سے یہ تعمیر نہ کرایا ہو بلکہ والد کے ساتھ مدد و تعاون کی نیت سے تعمیر کرایا ہو اور تعمیر پر آنے والے اخراجات کے متعلق قرض اور واپسی کی کوئی صراحت بھی نہ کی ہو تو ایسی صورت میں مکان کا بقیہ حصہ بھی شرعاً سائل کے والد کی ملکیت شمار ہوگا ، اور تعمیر پر آنے والی رقم مذکور بیٹوں کی طرف سے تبرع و احسان شمار ہوگا ، جس کے مطالبے کا شرعاً انہیں حق حاصل نہ ہوگا ، البتہ اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل تفصیل ذکر کرکے سوال دوبارہ ای میل کردیں ، اس پر غور و فکر کرنےکےبعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ
کردیا جائے گا۔
کما في الدر المختار: اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع و هبة و خلافة كإرث وأصالة (6/463)۔
وفیه ایضاً: (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه، ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، وفي أن العمارة لها أو له فالقول له لأنه هو المتملك۔اھ (6/ 747)
وفی الشامیة: مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا(الی قولہ) لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له۔(4/ 325)۔
وفي درر الحكام في شرح مجلة الأحكام :كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير. انظر المادة (1197)۔(3/ 201)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1