ایک سائل کے ۳ سوال ہیں(١) الحمد للہ ہمارے گاؤں (دیہات) میں ایک عالیشان مسجد کی تعمیر ہو رہی ہے، اب اس گاؤں کی عورتیں بڑی تعداد میں للہ محض نیت ثواب کی غرض سے کام (ریت اور کنکریٹ وغیرہ اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ،صفائی کرنے) کے لئے مسجد کے صحن میں آتی ہیں اور کام کرتی ہیں ، اور یہ عشاء کے بعد آنا ہوتا ہے اور اس وقت مرد حضرات میں سے کوئی وہاں موجود نہیں ہوتا تو کیا یہ جائز ہے؟(٢) ابھی مسجد کی تعمیر کا کام جاری ہے، لیکن جب تعمیر مسجد مکمل ہو جائے، تو اس وقت اوقات نماز کے علاوہ عورتیں (زیارت مسجد اور دو رکعت شکرانہ نماز پڑھنے کی نیت سے) کیا مسجد میں آ سکتی ہیں؟(٣) ہمارے اس گاؤں میں اور قرب و جوار کے تقریبا ٦ یا ٧ گاؤں میں مسلمانوں میں سے ایک سماج (ہالہ) کی اکثریت ہے، اب جس وقت پرانی مسجد شہید کرکے نئی بنانے کا فیصلہ ہوا تھا ،اس وقت یہ بات طے ہوئی تھی کہ ہم صرف اپنے ہی سماج کے پیسے سے تعمیر کریں گے، کہیں اور سے پیسہ نہیں لینا ہے ،اور الحمد للہ زیادہ تر مزدور لوگ ہونے کے باوجود بھی سماج کے لوگ برابر پیسے دے رہے ہیں اور آدھے سے زیادہ مسجد تعمیر ہو چکی ہے،اب مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لوگ جو نہ تو ہمارے سماج کے ہیں اور نہ ہی ہمارے گاؤں کے باسی ہیں، وہ تعمیر مسجد میں اپنا حصہ لگانا چاہتے ہیں اور اگر ہم منع کرتے ہیں تو انکا یہ کہنا ہے کہ آپ ہم کو منع نہیں کر سکتے ،ورنہ آپ گنہگار ہونگے، اب ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم نے باہر کے پیسے لئے تو گاؤں میں فتنے کا اندیشہ ہے اور مسجد کے کام میں رکاوٹ کا سبب ہے ،تو اب کیا کیا جائے؟ہمارے منع کرنے سے ہم گنہگار ہونگے ؟باوضاحت شریعت و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ آپکی بڑی مہربانی ہوگی ۔
صورت مسؤلہ میں اگر مذکور گاؤں کی خواتین عشاء کی نماز کے بعد،جب تمام مرد حضرات جاچکے ہوں، اس وقت اگر شرعی پردہ کا اہتمام کرتے ہوئے مسجد کی خدمت کرتی ہوں ،تو اس کی گنجائش اگرچہ ہے، لیکن خواتین کا اس طرح گھر سے نکل کر مسجد کی خدمت کرنا یا مسجد بننے کے بعد مسجد میں شکرانہ کی نماز پڑھنا وغیرہ پسندیدہ عمل نہیں، اس لئے اس سے اجتناب بہرصورت بہتر ہے، جبکہ باہر کے کسی فرد سے چندہ لینے کی وجہ سے کسی قسم کے فتنہ وفساد کا اندیشہ نہ ہو ،تو ان سے چندہ لینے میں حرج نہیں، لیکن اگر ایسے لوگوں سے چندہ لینے کی وجہ سے گاؤں کے لوگوں میں فتنہ وفساد کا خطرہ ہو اور مسجد کی تعمیر میں رکاوٹ کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں مسجد انتظامیہ کو چاہیئے کہ کسی مناسب انداز سے مذکور افراد کو اصل صورت حال سے آگاہ کردیں، اور اس صورت میں وہ گناہ گار بھی نہ ہوں گے، جبکہ تعاون کرنے والوں کو بھی ان شاء اللہ اپنی نیک نیتی کی وجہ سے مکمل ثواب ملنے کی امید ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (سورۃ الانفال،رقم الآیہ 46)۔
و فی الدر المختار:(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقا) ولو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان الخ(کتاب الصلوۃ،ج1،ص566،ط:سعید)۔