نام رکھنے کا حکم

محمد،خضر اور نہیان نام رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
70230
| تاریخ :
2024-01-09
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

محمد،خضر اور نہیان نام رکھنے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! امید کرتا ہوں اللہ کے فضل و کرم سے آپ سب بخیریت ہونگے ، الحمد للہ اللہ کے خاص فضل و کرم سے میرے یہاں بچے کی پیدائش اگلے مہینے کے شروع میں متوقع ہے ، مجھے جینڈر تو نہیں معلوم لیکن لڑکے کے لئے سید محمد علوی اور لڑکی کے لئے سیدہ ہاجرہ علوی نام طے کیا ہے ، لڑکے کے نام کے بارے میں آپ کی رائے مطلوب ہے ، کیا صرف محمد نام رکھ سکتے ہے ؟ خضر اور نہیان کے ناموں پر بھی آپ کی رائے مطلوب ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ محمد ﷺ کی عقیدت ومحبت میں ان کی نسبت سے بچے کا نام فقط "محمد " رکھنا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن و بابرکت بھی ہے ، جبکہ لڑکے کا نام نبی کی نسبت سے خضر اور نہیان (نون کے زیر اور ہ کے زبر کے ساتھ ) جس کے معنی عقل و دانش کے پیکر کے آتے ہے ، ہر دو نام میں سے کوئی بھی نام رکھنا جائز ودرست ہے ، البتہ نبی کی نسبت سے خضر نام رکھنا زیادہ بہتر ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابی داؤد: عن ابی الدرداء قال قال رسول اللہﷺ انکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم واسماءأٰبائکم فأحسنوا اسمائکم الحدیث اھ
فی روایۃ اٰخر عن ابی وھب الجشمی وکانت لہ صحبۃ قال قال رسول اللہﷺ تسموا باسماء الانبیاء الحدیث (ج2 ص328 )۔
وفیھا ایضاً: عن عائشۃ قالت جاءت امرأۃ الی النبیﷺ فقالت یا رسول اللہﷺ انی قد ولدت غلاما فسمیتہ محمدا وکنّیتہ اباالقاسم فذکر لی انّک تکرہ ذلک فقال ما الذی احل اسمی وحرم کنیتی او ماالذی حرم کنیتی واحل اسمی الحدیث (ج2 ص331 باب فی الرخصۃ فی الجمع ط: امدادیۃ)۔
وفی بذل المجھود: واعلم ان فی ھذہ المسئلۃ اقوالاً،الاوّل انہ یجوز التسمیۃ باسمہﷺ الخ (ج6 ص271 ط: قاسمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70230کی تصدیق کریں
2     1681
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات