سوال یہ ہے کہ اگر کوئی واقعی مستحق ہے تو کیاوہ بعد از فرض رکعات مسجد میں موجود نمازیوں سے مالی مدد کے لیے اپیل کرسکتا ہے چونکہ لفظ مستحق سے مراد حقدار لی جاتی ہے تو کسی حقدار کو اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے سے روکنا کس صورت جائزہوسکتا ہے اور دیکھا جائے تو مسجد مسلمانوں کے اجتماع کی سب سے بہتر جگہ ہے اور تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ مسجد نبوی مسلمانوں کے لیے ہیڈکوارٹر تھی اور مسلمانوں کے تمام مسائل مسجد نبوی میں ہی سنے اور حاظرین کی مدد سے حل کیے جاتے تھے ۔
واضح ہوکہ شریعت مطہرہ میں جس ضرورت مند اور مستحق شخص کو اپنی زندگی بچانے کی خاطر لوگوں سے سوال کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس ایک دن کے کھانے پینے کی اشیاء بھی موجود نہ ہوں ، ورنہ جس شخص کے پاس ایک دن کا کھانا اور ستر ڈھانکنے کے لئے کپڑا موجود ہو یا وہ کمانے پر قادر ہو تو اس کے لئے لوگوں سے بھیک مانگنا اور سوال کرنا مطلقاً ناجائز اور حرام ہے ، اور ایسے لوگوں سے متعلق احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک روایت مبارکہ میں ہے کہ جو آدمی ہمیشہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس طرح اللہ تعالیٰ سے ملے گا کہ اس کے چہرے پر ذرا بھی گوشت نہ ہوگا،اس لئے مساجد جو اللہ کے گھر اور عبادت کی جگہیں ہیں اس میں اللہ رب العزت کے بجائے لوگوں سے اپنی مالی اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لئے سوال کرنا نہ صرف غیر شرعی بلکہ آداب مسجد کے بھی خلاف ہے ، جہاں تک مسجد نبوی ﷺ میں لوگوں کے مسائل کے حل کرنے کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد لوگوں کا ایسا مالی تعاون نہیں کہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین کو براہ راست نمازیوں سے بھیک مانگنے اور سوال کرنے کی اجازت دیدی گئی ہو ، بلکہ اس سے مراد ریاستی اور معاشرتی امور میں پیش آنے والے مسائل اور پیچیدگیوں کا حل ہے جس سے متعلق حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اپنے مسائل نبی کریم ﷺ کے سامنے رکھتے ، اور اس کا حل دریافت فرماتے ، لہذا مسجد نبوی کے اس پہلو کو بنیاد بنا کر پیشہ ور لوگوں کے لئے مسجد میں بھیک مانگنے کے جواز پر استدلال کرنا قرین قیاس نہیں، بلکہ احکام شرعیہ سے ناواقفیت پر مبنی ہے ، اس طرح کی سوچ اپنانے سے احتراز ضروری ہے ۔
کما فی صحیح مسلم : عن حمزة بن عبد الله، عن أبيه، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "لا تزال المسألة بأحدكم حتى يلقى الله، وليس في وجهه مزعة لحم"(رقم الحدیث: 1040،ج 2، ص 720)۔
کما فی رد المحتار تحت: (قوله ويكره التخطي للسؤال إلخ) قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اهـ ومثله في البزازية. وفيها ولا يجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة. قال الإمام أبو نصر العياضي: أرجو أن يغفر الله - تعالى - لمن يخرجهم من المسجد. وعن الإمام خلف بن أيوب: لو كنت قاضيا لم أقبل شهادة من يتصدق عليهم. اهـ. وسيأتي في باب المصرف أنه لا يحل أن يسأل شيئا من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحالته لإعانته على المحرم اھ ( مطلب فی الصدقۃ علی سؤال المسجد، ج 2، ص 144، ط: سعید)۔