کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوگیا، مرحوم نے اپنے پیچھے تین بیٹے، دو بیٹیاں اور دو بیوہ چھوڑی ، ایک بیوہ سے اولاد نہیں ہوئی، ترکہ میں اس نے ایک مکان چھوڑا ، جس کی کل مالیت ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے ہے، مذکورہ صورت میں کس کا کتنا حصہ آئے گا، شریعت کے مطابق قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمادیجئے۔
نوٹ: دو بیوہ میں سے ایک کی اولاد تھی، دوسری کی نہیں۔
حقوقِ متقدمہ علی المیراث(کفن دفن کے متوسط مصارف،واجب الاداء قرضوں اور بیواؤں کے حق مہر کی ادائیگی اگر مرحوم نے ادا یا بیواؤں نےمعاف نہ کیا ہواور ایک تہائی(1/3)کی حد تک جائز وصیت پر عمل) کے بعد اگر یہی رقم (یعنی ایک کڑوڑ پچاس لاکھ روپے ) بچتی ہو اور مرحوم کے ورثاء بھی یہی مذکور فی السؤال ہوں تو مذکور رقم میں سےمرحوم کی دونوں بیواؤں میں سے ہر ایک کو "نولاکھ سینتیس ہزار پانچ سو"(937500) روپے،مرحوم کے تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو"بتیس لاکھ اکیاسی ہزار دو سو پچاس "(3281250)روپے،جبکہ مرحوم کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو "سولہ لاکھ چالیس ہزار چھ سو پچیس"(1640625)روپے دیے جائیں۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0