کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندر جہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والدین کا انتقال ہو چکا ہے ، بوقتِ انتقال و رثاء میں ایک بیٹا ( محمد سلطان) تین بیٹیاں ( عقیلہ ، امینہ ، سلطانہ) موجودتھیں ، اس کے بعد بیٹے (محمد سلطان) کا انتقال ہو گیا ، اس کے ورثاء میں بیوہ ، اورتین بہنیں موجود تھیں ، اس کے بعد پھر ایک بیٹی امینہ بیگم کا انتقال ہوا ، ا ور ورثاء میں شوہر (انوار برنی) دو بیٹے (مسعود ، ابرار) چار بیٹیاں (نائلہ ، شمائلہ ، غزل، را حیلہ) موجود تھیں ، والد صاحب کے ترکہ کے مکان کی کل قیمت جو ہمارے پاس موجود ہے سولہ ( 16) لاکھ روپے ہیں ، وہ مذ کو رورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کی جائے گی ؟ نیز مرحومہ امینہ بیگم نے زبانی طور پر اپنا حصہ معاف کر دیا تھا ، تو کیا ان کا حصہ معاف ہو گیا ؟ یا یہ ان کے بچوں کو دینا پڑے گا ؟ جو بھی شرعی حکم ہوتحریر فرمائیں ۔
واضح ہو کہ تقسیمِ ترکہ سے قبل کسی وارث کا دیگر ورثاء کے حق میں اپنے حصہ سے دستبردار ہونا شرعاً معتبر نہیں ، بلکہ اس دستبرداری اور معافی کے اعلان کے باوجود وہ وارث ترکہ میں باقی ورثاء کی طرح حسب حصصِ شرعی حقدار ہوتا ہے ، لہذا بیٹی مسماۃ امینہ بیگم کا اپنا حصہ دیگر ورثاء کو معاف کرنے سے بھی ترکہ میں سے اس کا حصہ ساقط نہیں ہوا تھا ، چنانچہ اب تقسیمِ ترکہ کے وقت بواسطہ بیٹی مرحومہ وہ حصہ اس کی اولاد کے درمیان حسرب حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے مرحوم والد کی میراث اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگی کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل تین سو بیس (320) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی ہر بیٹی کو چھیانوے ( 96) حصے ، بہو کوبتیس (32) حصے ، داماد کو چوبیس (24) حصے ، ہر نواسا کو اٹھارہ (18) حصے اور ہر نواسی کو نو (9) حصے دیے جائیں -
كما في الأشباه و النظائر : لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْكِ الخ ( مَا يَقْبَلُ الْإِسْقَاطَ مِنْ الْحُقُوقِ وَمَا لَا يَقْبَلُهُ، وَبَيَانُ أَنَّ السَّاقِطَ لَا يَعُودُ ، ج 3، ص 53، ط : إدارة القرأن)-
و في تكملة رد المحتار : الإرث جبر لا يسقط بالإسقاط ( مطلب واقعة الفتوى، ج 7، ص 505، ط : سعيد)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1