السلام علیکم! سر کیا حال ہیں آپ کے، اللہ آپ کی حفاظت فرمائیں۔
میری بچی کی عمر اب 2 سال ہے،میں نے اُس کا نام "عنیزہ رحمٰن" رکھا تھا،اب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عنیزہ نام صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس کے معانی ٹھیک نہیں ہیں، میں نے جب انٹرنیٹ پر دیکھا تو مجھے "عنیزہ " کا مطلب بکری دکھا اور اگر عنیزہ کو الف سے "انیزہ" لکھا جائے ،تو اس کا مطلب ہے خوشی، عیبوں سے پاک،سر میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ نام ٹھیک ہے؟ کیونکہ اب اگر بچی کا نام تبدیل کیا تو مشکل ہو گی،براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں، کیونکہ میں نے کافی لڑکیوں کا نام عنیزہ سنا ہے۔
عنیزہ کا معنی بکری کا بچہ میمنہ کے ہیں (مصباح اللغات ص579)اس لئے یہ نام رکھنا مناسب معلوم نہیں ہو تا ، لہذا ازواج مطہرات یا دیگر صحابیات وغیرہ کے نام میں سے کسی نام کا انتخاب کر نا زیادہ بہتر ہے ۔
کما فی المشکوٰۃ : عن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ تدعون یوم القیامۃباسمائکم واسما ابا ئکم فأحسنواسمائکم (ص458 ط:رحمانیہ)۔
وفی الھندیہ: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط اھ (الباب الثانی ولاعشرون فی تسمیۃ الاولاد وکناھم العقیقۃ ج5 ص362ط:ماجدیہ)۔