السلام علیکم
میرا سوال جائیداد سے متعلق ہےکہ جب باپ کی زمین ہو،باپ کا انتقال ہوجائے بچوں کی کم عمری میں ،پھر اس زمین پر گھر کا بڑا بھائی پورا مکان تعمیر کروائے،سب بہن بھائی مل کر رہیں ،تین فلور کا گھر ہو تو جب اس مکان کو بیچا جائے تب شریعت کیا حکم دیتی ہےحصوں کی تقسیم کرنے کا ؟
سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور بھائی نے یہ تعمیر اپنے ذاتی پیسوں سے کی یا ترکہ کے پیسوں سے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگرمذکور بھائی نے ترکہ کی زمین پر اپنی ذاتی رقم سے ورثاء کی اجازت کے بغیر مشترکہ رہائش کے لئے مکان تعمیر کروایاہو اور تعمیر کے وقت ورثاء کے سامنے قرض کی یا ترکہ سے منہا کرنے کی صراحت بھی نہ کی ہو تو یہ اس کی طرف سے تبرع واحسان شمار ہوگا،اور اب تقسیم جائیداد کے موقع پر اس کے لئے دیگر ورثاء سے تعمیر کی رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا۔
البتہ اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو مکمل وضاحت کے ساتھ سوال دوبارہ لکھ کر ارسال کردیں،تو ان شاء اللہ غور وفکر کے بعد حکمِ ِشرعی سے آگاہ کردیا جائیگا۔
کمافی رد المحتار تحت (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن الترکۃ فی الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.اھ(ج6 ص759 کتاب الفرائض ط: سعید)۔
وفی قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار تحت قوله: (الخالية إلخ) صفة كاشفة،لان التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.اھ(ج7 ص350 کتاب الفرائض ط: دارالفکر،بیروت)۔
وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: الاحتمال الثاني - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا كما سيبين في المادة (1131).
الاحتمال الثالث - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه. انظر المادة (831) وشرح المادة (906)
الاحتمال الرابع - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة. انظر شرح المادة (529) ما لم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذا الحال يمنع من رفعها. (ج3 ص314/315 الکتاب العاشر الشرکات،الباب الخامس فی بیان النفقات المشترکۃ دارالجیل)۔
وفی شرح المجلۃ للأتاسی: اذا عمّر شخص الملک المشترک بدون اذن من الشریک او من الحاکم یکون متبرعا یعنی لیس لہ ان یرجع علی شریکہ بمقدار ما اصاب حصتہ من المصروف سواء کان ذلک الملک المشترک قابل القسمۃ اولم یکن (ج4 ص231 المادۃ 1311 کتاب العاشر الشرکات ط: اسلامیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1