نام رکھنے کا حکم

انابیہ،عشال،حریم،اربش،حسنی اور ارزا نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
73515
| تاریخ :
2024-05-29
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

انابیہ،عشال،حریم،اربش،حسنی اور ارزا نام رکھنا کیساہے

میں اس فہرست میں سے اپنی بچی کے لیے کون سا نام چن سکتا ہوں؟ اور کیا ان ناموں کے معنی صحیح ہیں؟ انابیہ: جنت کا دروازہ ،ایصال: جنت کا پھول، حریم: حرم (بیت اللہ کا چار دیوار) اربش: جنت کا پھول، جنت کی بارش، حوریہ: جنت کے فرشتے،حسنی:اللہ کا نام اسماء الحسنہ، ابیہا: حضرت فاطمہ کا لقب،ارزا، نیک۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

انابیہ لفظ ”اناب“سے ماخوذ ہے، جس کے معنی مشک یا مشک کی مانند ایک خاص خوشبو کے آتے ہیں،
”حریم“ مقدس چیز یا جگہ کو کہتے ہیں، قاموس الوحید: (ص: 333، ط: ادارہ اسلامیات)
”اربش“ کے معنیٰ لغتِ عرب میں مختلف رنگوں والا ہونا ہے، گھوڑے کے لیے اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے،
’’حوریہ‘‘ کے معنی "خوب صورت دوشیزہ" کے ہیں،
”حسنیٰ“ کے معنی ہے "بہتر، عمدہ" (القاموس الوحید، ص :340، ط:ادارہ اسلامیات لاہور)جبکہ یہ لفظ بطور صفت کے اللہ تعالی کے ناموں کےساتھ بھی استعمال ہوتاجیسے اسماء الحسنی یعنی اللہ تعالی کے بہتر اور عمدہ نام،
”ابیہا“ نہیں ؛ بلکہ ”’ام ابیہا“ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی کنیت تھی،ابیہا کے بجائے ”ام ابیہا “ نام رکھنا چاہیئے ،
’’ ارزاء‘‘ یہ ’’رزء‘‘ کی جمع ہے اور رزء "مصیبت "کو کہتے ہیں(القاموس الوحید، ص: 618، ط:ادارہ اسلامیات لاہور)
”نیک“یہ اردو میں عربی زبان کے لفظِ ” بَرّ“ کا ترجمہ ہے ،
لہذا سوال میں مذکور”ازراء“ نام کےعلاوہ تمام نام معنی کے اعتبار سے درست ہیں ،اس لئے سائل اپنی بیٹی کےلئے ان میں سے کسی نام کو بھی منتخب کرسکتاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی لسان العرب:والأناب:ضرب من ‌العطر ‌يضاهي ‌المسك الخ (ج1، ص217، ط: دارصادربیروت)۔
وفیہ ایضا: ربش: الأربش: المختلف اللون نقطة حمراء وأخرى سوداء أو غبراء أو نحو ذلك. وفرس أربش: ذو برش مختلف اللون، (ج6،ص 303،ط:دار صادر بیروت)۔
وفی معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرۃ: حُوريَّة (مفرد)
1 - فتاة أسطوريّة بالغة الحُسْن تتراءى في البحار والغابات والأنهار.
2 - امرأة حسناء بيضاء ناعمة "هذه المرأة السّاحرة الجمال كأنّها من حوريّات الجنۃ(ج1،ص579،ط:عالم الکتب)
وفی تاریخ الطبری: وذكر عن جعفر بن محمد ع انه قال: كانت كنيه فاطمه عليها السلام ‌أم ‌أبيها الخ(القول فی تاریخ وفات الصحابۃ والتابعین، ج11،ص499،ط:دار المعارف بمصر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73515کی تصدیق کریں
0     715
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات