السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب نے اپنی حیات میں اپنی بہن کو اپنی جائیداد میں تھوڑا سا حصہ دیا تھا اور بہن کو کہا کہ آپ مجھ سے یہ تھوڑا حصہ لے لیں کیونکہ آپ کو بھی ضرورت ہے اور باقی حصے میں مجھے معاف کردیں، بہن نے وہ تھوڑا حصہ جس کی جو رقم بنتی تھی وہ گواہوں کے سامنے قبضہ کیا اور کہا میں نے باقی ماندہ مال یا حصہ معاف کیا، تو کیا اس طریقے سے میرے والد بری الذمہ ہوسکتے ہیں ؟ حال یہ ہے کہ اب دونوں اس دنیا میں نہیں ہیں، یعنی بہن اور بھائی۔۔ تو کیا اب میری پھوپھی کے بیٹے ہم سے باقی ماندہ مال کامطالبہ کر سکتے ہیں،براہِ کرم شریعت کے رو سے جوا ب سے آگاہ فرمائیں۔
نوٹ: بھائی بہن کا انتقال والد کے بعد ہوا ہے۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اسمیں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کی پھوپھی مرحومہ نے اپنے بھائی (سائل کے والد مرحوم ) سے ترکے میں سے اپنے حصے کے عوض کچھ مال لیکر باقی ترکے سے دستبرداری کا اظہا ر کیا ہو جس پر گواہان بھی موجود ہوں اور ایسا اس نے بلا کسی جبر و اکراہ محض اپنی دلی رضا مندی سے کیا ہو تو ایسی صورت میں سائل کی پھوپھی مرحومہ کا ترکے میں سے حصہ ختم ہوچکا تھا سائل کے والد بری الذمہ ہوکر بقیہ تمام ترکے کے مالک بن چکے تھے ، چنانچہ اب سائل کی مرحومہ پھوبھی کے بیٹوں کیلئے سائل کے والد مرحوم کے حصے میں سے سائل اور اسکے دیگر بہن بھائیوں سے مطالبے کا حق حاصل نہ ہو گا۔
کما فی الدر المختار: (ومن صالح من الورثة) والغرماء على شيء معلوم منها (طرح) أي اطرح سهمه من التصحيح وجعل كأنه استوفى نصيبه (ثم قسم الباقي من التصحيح) أو الديون (على سهام من بقي منهم) فتصح منه الخ (کتاب الفرائض ج 6 صـ 811 ط: سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1