اگر "ذروہ" نام رکھاجائے تواس کا مستند معنی کیا ہے؟ کیا ہم اپنی بیٹی کا نام "ذروہ" رکھ سکتے ہیں؟ کیا سورۃ البقرۃ بھی ذروۃ القرآن کہلاتی ہے؟
"ذُروۃ"کے معنی بلندی اور چوٹی کے آتے ہیں، اور ایک روایت میں سورۃ البقرۃ کو ذُروۃ القرآن بھی کہا گیاہے، لہذا بیٹی کے لئے "ذُروۃ" نام رکھنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی مسند الإمام أحمد بن حنبل: عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَقَرَةُ سَنَامُ الْقُرْآنِ وَذُرْوَتُهُ، نَزَلَ مَعَ كُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ثَمَانُونَ مَلَكًا، وَاسْتُخْرِجَتْ {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255] مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ، فَوُصِلَتْ بِهَا، أَوْ فَوُصِلَتْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَيس قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللهَ والدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ، وَاقْرَءُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ " الحدیث (ج33 صـ417 ط: مؤسسة الرسالة)۔
وفی حاشیۃ صحیح مسلم: تحت قولہ: (بثلاثۃ ذود بقع الذۜى) اما "الذری" فبضم الذال وکسرھا وفتح الراء المخففۃ، جمع "ذروۃ" بکسر الذال وضمھا، وذروة كل شيء أعلاه والمراد هنا الأسنمة الخ (ج2 صـ1088 باب ندب من حلف يمينا فرأى غيرها خيرا منها ط: البشری)۔