ماشاء اللہ میرے بھائی کے ہاں جڑواں بیٹیاں پیدا ہوئی ہیں ، ہم نے بیٹیوں کے نام بالترتیب عمائمہ، امیمہ اور انعم رکھے ہیں۔ براہ مہربانی اسلامی نقطہ نظر سے رہنمائی فرمائیں۔
عمائمہ کے معنی" خوشحالی، سربلندی" کے آتے ہیں،اور انعم کے معنی: "نرم وملائم، آسودگی، راحت وآرام اور مال ودولت "کے آتے ہیں،جبکہ امیمہ کے معنی: "ہتھوڑا یا ایسا پتھر جس سے سر کچلا جائے" کےآتے ہیں،اور چونکہ بہت سی صحابیات امیمہ نام کی گزری ہیں، لہذا "امیمہ" نام سمیت دیگر ذکر کردہ دونوں ناموں پر بچیوں کے نام رکھنا بلاشبہ جائز ودرست ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی القاموس الوحید: "العمامۃ" سربلندی، پگڑی ج:عمائم۔ ارخی فلان عمامتہ: خوشحال ہونا۔ (صـ908، ادارہ اسلامیات)۔
وفیہ ایضاً: "النعماء" آسودگی، راحت وآرام، مال ودولت، ج:انعم۔ (صـ1321، ادارہ اسلامیات)۔
وفیہ ایضاً: "امیمۃ" اُمّ کی تصغیر، لوہار کی ہتھوڑی (صـ113، ادارۃ اسلامیات)۔
وفی القاموس المحیط: والأَمَيْمَةُ، كجهينةَ: الحجارةُ تُشْدَخُ بها الرُّؤُوسُ، وتَصغيرُ الأُمِّ، ومِطْرَقَةُ الحَدَّادِ، واثنَتَا عَشَرَةَ صَحابِيَّةً.وأبو أُمَيْمَةَ الجُشَمِيُّ أو الجَعْدِيُّ: صحابيُّ. الخ (ج1 صـ1077 باب المیم، مؤسسة الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان)۔
وفیہ ایضاً:والاسمُ: النَّعْمَةُ، بالفتح،نَعِمَ، كَسَمِعَ ونَصَرَ وضَرَبَ،ومَنْزِلٌ يَنْعَمُهُم، مُثَلَّثَةً،ويُنْعِمُهُم: كيُكْرِمُهُم،وتَناعَمَ وناعَمَ تَنَعَّمَ، وناعَمَه ونَعَّمَه غيرُهُ تَنْعِيماً.والناعِمَةُ والمُناعِمَةُ والمُنَعَّمَةُ، كمُعَظَّمَةٍ: الحَسَنَةُ العَيْشِ والغِذاء، ونَبْتٌ ناعِمٌ ومُناعِمٌ ومتناعِمٌ سَواءٌ.والتَّنْعيمَةُ: شَجرةٌ ناعِمَةُ الوَرَقِ.وثَوْبٌ ناعِمٌ،وكلامٌ مُنَعَّمٌ، كمُعَظَّمٍ: لَيِّنٌ.والنِعْمَةُ،(الی قولہ)ج: أنْعُمٌ ونِعَمٌ ونِعِمَاتٌ، بكسْرَتَيْنِ وتُفْتَحُ العَيْنُ، وأنْعَمَها اللُّه تعالى عليه،وأنْعَمَ بها،ونَعِيمُ الله تعالى: عَطِيَّتُهُ. الخ (ج1 صـ1162 مؤسسة الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان)۔