نام رکھنے کا حکم

صفوان اور ارقم نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
77447
| تاریخ :
2024-08-17
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

صفوان اور ارقم نام رکھنا کیساہے

میرا نام سلمان خان ہے ، میں اپنے بچے کا نام "محمد صفوان" یا "محمد ارقم" رکھوں یہ بہتر ہے یا "محمد صفوان سلمان" یا "محمد ارقم سلمان" یا صرف "صفوان سلمان" یا " ارقم سلمان" رکھوں۔ شرعی لحاظ سےکس طرح درست ہوگا۔ رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کے جیسے مفرد نام رکھنا جائز ہے اسی طرح بچوں کے مرکب نام رکھنا بھی درست ہے، جبکہ نام سے پہلے لفظ "محمد " برکت کے حصول کے لئےبڑھانا باعث برکت ومستحسن ہے، لہذا سائل کے لئے اپنے بچوں کے نام "محمد صفوان" و"محمد ارقم" رکھنا درست و بہتر ہے، نیز والد کی نسبت سے مذکور ناموں کے ساتھ "سلمان" بڑھا دینا بھی بلا شبہ جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في صحيح ابن حبان : عن أبي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "إنكم تدعون يوم القيامة ‌بأسمائكم ‌وأسماء ‌آبائكم، فحسنوا أسماءكم (ذكر الأمر للمرء أن يحسن أسامي أولاده لنداء الملائكة في القيامة إياهم بها، ج 13، ص 135 ، رقم : 5818، ط : مؤسسة الرسالة، بيروت)-
و في سير أعلام النبلاء للذهبي : ‌الأرقم ‌بن ‌أبي ‌الأرقم : ابن أسد بن عبد الله بن عمر بن مخزوم بن يقظة المخزومي. صاحب النبي صلى الله عليه وسلم، من السابقين الأولين، اسم أبيه: عبد مناف. كان الأرقم أحد من شهد بدرا، وقد استخفى النبي صلى الله عليه وسلم في داره، وهي عند الصفا. وكان من عقلاء قريش، عاش إلى دولة معاوية. (ج 4 ، ص 97، دار الکتب الحديث ،القاهرة، مصر)-
و في الإصابة في تمييز الصحابة : ‌صفوان ‌بن ‌عبيد: قال ‌ابن ‌حبّان: ‌له ‌صحبة. (ج 3، ص 352، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77447کی تصدیق کریں
0     1193
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات