اسلام علیکم! میرا سوال وراثت سے متعلق ہے ۔
میرے پر دادا کا مکان ہے، ان کی وفات کے وقت جائیداد تقسیم نہیں ہو سکی تھی، اب ان کی اولاد جس میں2 بیٹے اور 3 بیٹیاں شامل ہیں، وہ بھی فوت ہو چکی ہیں، اپنے والد کی وفات کے بعد، اب ہم اس وراثت کوتقسیم کرنا چاہتے ہیں، کیا میرے پردادا کی وراثت میں ان کے نواسے اور نواسی حقدار ہیں؟ میں نے یہ سنا ہے کہ والد کی وفات کے بعد اگر اس کی بیٹی بھی فوت ہو جائےاور وراثت تقسیم نہ ہوئی ہو تو پھر بیٹی کی اولاد یعنی اس شخص کے نواسے اور نواسی حقدار نہیں ہیں۔ اس کی تشریح کر دیں۔
واضح ہو کہ جس بیٹے یا بیٹی کا اپنے والدین کی زندگی میں انتقال ہوجائے ، تو اس کی اولاد دیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں شرعاً والدین مرحومین کے ترکہ میں حصہ دار نہیں ہوتی، البتہ اگر کوئی بیٹا یا بیٹی والدین کی وفات کے بعد انتقال کرجاتا ہے تو ایسی صورت میں شرعاً مرحوم بیٹے، بیٹی کی اولاد والد اور والدہ کے توسط سے دادا ، دادی اور نانا ، نانی کے ترکہ میں حصہ دار ہوں گے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر بیٹی کا انتقال والدین کے انتقال کے بعد ہوا ہو تو مرحومہ بیٹی کی اولاد ( نواسے، نواسیاں) شرعاً اپنے نانا ، نانی مرحومین کے ترکہ میں حصہ دار ہوں گی، جس کا طریقہ کار بوقتِ ضرورت ورثاء کی تفصیل ذکر کر کے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کمافی التفسیر الکبیر تحت قولہ تعالیٰ : ( للرجال نصیب مما ترک الوالدان و الاقربون الآیۃ ) انہ تعالیٰ قال فی آخر الآیۃ ( نصیبا مفروضا ) ای نصیباً مقدراً، و بالاجماع لیس لذوی الارحام نصیب مقدر ، فثبت انھم لیسو داخلین فی ھذہ الایۃ الخ ( سورۃ النساء الایۃ : 7 ج صــــ 158 ط : دار الکتب ) ۔
و فیہ ایضا : ( و اذا حضر القسمۃ اولو القربیٰ الآیۃ) ان الذین لا یرثون (الی قولہ ) انما قدم الیالی علی المساکین لان الضعف الیتامی اکثر ، و حاجتھم اشد ، فکان وضع الصدقات فیھم افضل و اعظم فی الاجر الخ ( سورۃ نساء : آیۃ : 8 ج 5 صـــ 159 ط : دار الکتب ) ۔
و فی رد المختار تحت ( قولہ : ھی علم باصول الخ ) و شروطہ : ثلاثۃ : موت مورث حقیقۃ ، او حکما کمفقود او تقدیرا کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ او تقدیرا کالحمل الخ ( کتاب الفرائض ج 6 صــــ 758 ط : سعید ) ۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: وقد ذکر الإمام أبوبکر جصاص الرازي رحمه اللّٰه في أحکام القرآن، والعلامة العیني في عمدة القاري: الإجماع علی أن الحفید لایرث مع الابن الخ ( ج 2 ص 18)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1