کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے شوہر مسمیٰ تاج ملوک ولد مرزا مغل کا انتقال ہو چکا ہے، ان کے ورثاء میں دو بیوہ (محبوبہ بی بی ، رضیہ بی بی ) چار بیٹے (تاج عمر، تاج اکبر، گل اکبر، سجاد ) اور دو بیٹیاں موجود تھیں( انار بی بی ، آمنہ) میرے شوہر اور ان کے بھائیوں نے اسٹامپ پر کچھ پلاٹ لیے تھے، بعد میں سب نے اپنے اسٹامپ واپس کر دیئے، لیکن میں نے اپنے شوہر کو اپنے مہر کے زیورات دیئےاور میں نے اسٹامپ کو واپس نہیں کیا، بلکہ وہ پلاٹ اپنے مہر کے زیورات سے خرید لیا ، بعد میں میرے شوہر نے اس پر مکان تعمیر کیا اور کرایہ پر دیا، اب جب تک وہ حیات تھے کرایہ لے کر مجھے دیتے رہے، گھر کا خرچہ الگ دیتے تھے اور اس گھر کا کرایہ الگ دیتے تھے، لیکن ہمارے درمیان ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی کہ یہ مکان میرا ہے یا ان کا ہے ، بس میرے زیورات سے پلاٹ خریدا ہے اور تعمیر کی، کرایہ مجھے دیتے رہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ میں اس مکان کی اکیلے مالک ہوں یا اس میں دیگر ورثا کا بھی شرعی حق بنتا ہے؟ میرے شوہر کے اس کے علاوہ دو گھر اور بھی ہیں، تقسیم کا جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
بصورت دیگر میں اپنے زیورات تقسیم سے پہلے منہا کر سکتی ہوں، زیورات تقریبا پانچ تولے تھے۔
تنقیح:
جوابِ تنقیح:
سب بھائیوں نے اسٹامپ پیپر واپس کردیئے تھے تو میرا شوہر بھی پیسے نہ ہونے کی وجہ سے واپس کررہا تھا، جس پر میں نے ان کو بولا کہ میں اپنے حق مہر کے پیسوں سے یہ پلاٹ خریدتی ہوں، تو میرے شوہر اس پر راضی ہوگئے اور میرا سونا بیچ کر انہوں نے اس پلاٹ کی قیمت ادا کردی اور پلاٹ کی قیمت ادا کرنے کے بعد میرے شوہر نے مجھے یہ بھی کہا تھا کہ یہ پلاٹ تمہارا ہے، کیونکہ تمہارے سونے سے خریدا ہے، جبکہ تعمیر میرے شوہر نے ذاتی رقم سے کی تھی۔سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ نے از خود یا شوہر کے توسط سے اپنے حق مہر کے زیورات فروخت کرکے حاصل شدہ رقم سے اپنے لئے مذکور پلاٹ خریداہو، اس میں شوہر کی کوئی رقم شامل نہ ہو تو ایسی صورت میں مذکور پلاٹ شرعاً سائلہ کی ملکیت شمار ہوگا، چنانچہ اب مرحوم شوہر کی وفات کے بعد اس میں دیگر ورثاء کا شرعاً کوئی حق نہ ہوگا، البتہ اس پلاٹ پر جو تعمیرات سائلہ کے شوہر نے اپنی ذاتی رقم سے اپنے لئے کی تھی، وہ شرعاً سائلہ کے شوہر مرحوم کی ملکیت تھیں، جوکہ اب دیگر ترکہ کی طرح سائلہ سمیت اسکے تمام ورثاء کے درمیان حسب حصصِ شرعی تقسیم ہوں گے۔
کما فی تنقیح الحامدیۃ: (سئل) فيما إذا دفعت هند لزيد مبلغا معلوما من الدراهم على سبيل القرض فطالبته بالمبلغ المزبور فقال إنك دفعته لي هبة وقالت بل قرضا فهل يكون القول قولها بيمينها في ذلك وعليه رد مثل القرض المزبور؟
(الجواب) : نعم دفع لآخر عينا ثم اختلفا فقال الدافع قرض وقال الآخر هدية فالقول قول الدافع كذا في القول لمن عن البزازية ومثله في الخانية دفع إليه دراهم فقال أنفقها ففعل فهو قرض كما لو قال اصرفها إلى حوائجك ولو دفع إليه ثوبا وقال اكتس به ففعل يكون هبة؛ لأن قرض الثوب باطل لسان الحكام من الهبة.الخ ( ج 2 ص 82 )۔
وفی بدائع الصنائع: الوكيل بالشراء أنه إذا اشترى شيئا يقع شراؤه للموكل الخ ( ج 5 ص 151 )۔
وفی تنقیح الحامدیة:(سئل)رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنه وعن ورثته غیره فھل یکون القصر لبانیه ویکون کالمستعیر (الجواب)نعم کما صرح بذالک فی حاشیة الاشباه(الی قولہ) ویکون کالمستعیر فیکلف قلعه متی شاءاھ(2/88)۔
وفی شرح المجلۃ الاحکام: أما إذا كان للزوجة كسب على حدة فكافة الكسب لها ولا تعد معينة للزوج الخ ( ج 3 ص 421 )۔
وفیہ ایضاً: إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك بإذن الآخر وصرف من ماله قدرا معروفا فله الرجوع على شريكه بحصته أي أن يأخذ من شريكه مقدار ما أصاب حصته من المصرف الخ ( المادۃ: 1309 ج 3 ص 313 )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1