کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری دادی مرحومہ کی ایک ذاتی جائیداد ہے، جو دادی کو ان کی پھوپھی نے دی تھی ، جو بے اولاد تھیں، پھر دادی نے وہ جائیداد اپنے چار پوتوں کے نام وصیت کر دی، جبکہ دادی اور یہ چار پوتے اسی بلڈنگ میں رہتے رہے، پھر دادی کا انتقال ہو گیا، جس کے ورثاء میں ایک بیٹا غلام رسول حیات تھا ، جبکہ کوئی بیٹی نہیں تھی، پھر اس بیٹے غلام رسول کا انتقال ہو گیا، جس کے ورثا میں بیوہ، پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں موجود ہیں، جبکہ دادی نے بلڈنگ جن پوتوں کے نام کی ہے، وہ دادی کے دوسرے بیٹے عبدالستار کی اولاد ہے، جس کا انتقال دادی کی زندگی میں ہو گیا تھا جبکہ دادی کا ایک بھتیجا ہے، جو دادی کے ترکہ میں حصہ کا مطالبہ کررہا ہے، بیٹے کی موجودگی میں اس بھتیجے کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ بیٹے کی موجودگی میں بھتیجے کا شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ مرحومہ دادی کے انتقال کے وقت بیٹا مسمیٰ غلام رسول حیات تھا، لہٰذا دادی مرحومہ کے مذکور بھتیجے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، جس سے بھتیجے کو احتراز لازم ہے، جبکہ مرحوم عبد الستار کے بیٹوں کااپنی دادی مرحومہ کے ترکہ میں بطورِ وارث شرعاً کوئی حصہ نہیں، البتہ دادی مرحومہ نے اپنے ان پوتوں کے متعلق جو منسلکہ وصیت کی ہے، تو اس کی وجہ سے وہ صرف ایک تہائی کے ہی حقدار ہوں گے، اس سے زائد کا مطالبہ کرنا ان کے لئے شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحومہ دادی کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو ، تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد مذکور وصیت کو ایک تہائی کی حد تک پورا کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سولہ (16 ) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم بیٹے کی بیوہ کو دو ( 2 ) حصے ، جبکہ پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو ( 2 ) حصے ، اور چاربیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ( 1 ) حصہ دیا جائے -
کما فی رد المحتار: وشروطہ ثلاثۃ: موت مورث حقیقیۃ، أو حکما کمفقود أو تقدیراً کجنین فیہ ووجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ أو تقدیراً اھ (کتاب الفرائض،ج6، صـــ758،ط:سعید)۔
وفی الدر المختار: ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر الخ ( ج 6 ص 774 ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1