احکام وراثت

والد کے اخراجات اٹھانے کا حکم

فتوی نمبر :
77995
| تاریخ :
2024-09-10
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والد کے اخراجات اٹھانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ! اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے،وہ سلائی وغیرہ کرتی تھی، اسی کے پیسے جمع کر کے مکان خریدا تھا، ، جس کی ملکیت میری والدہ کی ہے، والد نے اس میں کوئی حصہ نہیں ملایا تھا، اب والد ہ کے انتقال کے بعد ہم بھائیوں نے فی کس چار ہزار والد کے لیے متعین کئے، میں رکشہ چلاتا ہوں اور کبھی اخراجات وغیرہ کے پیسے نہ بچیں تو والد کو پیسے نہیں دے پاتا، جس پر وہ ناراض ہوتے ہیں اور میرے کام پر چلے جانے کے بعد گھر کا گیس اور بجلی بند کر دیتے ہیں، جبکہ بل چاروں بھائی مل کر بھر تے ہیں، اور دروازہ کو باہر سے تالا لگا دیتےہیں، جس سے بچے اسکول جانے سے رہ جاتے ہیں، آپ بتائیں کہ کیا ہم پر والد کو ہر حال میں متعین پیسے دینا لازم ہے؟ اور گھر کے متعلق کہتے ہیں کہ میں بیچ کر حج کروں گا، اور باقی پیسے بینک میں رکھوں گا، جبکہ مذکور گھر والدہ کی ملکیت ہے، اس سلسلہ میں آپ ہی رہنمائی فرمائیں کہ والد کا مذکور طرز عمل درست ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور مکان اگر واقعۃً سائل کی والدہ مرحومہ کی ملکیت تھا تو ایسی صورت میں مرحومہ کی وفات کے بعد مذکور مکان مرحومہ کا ترکہ بن چکا ہے، جوکہ دیگر ترکے کی طرح شوہر (سائل کے والد )سمیت مرحومہ کے تمام ورثاء ( بیٹیوں، بیٹوں ) میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا۔ لہذا سائل کے والد کے لئے دیگر ورثاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر ترکے کا مکان فروخت کرکے حاصل شدہ ر ساری رقم اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔ جبکہ سائل کا والد اگر تنگدست ہو، اس کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو تو ایسی صورت میں اسکے نان و نفقہ کی ذمہ داری اس کے صاحب حیثیت اولاد کے ذمہ لازم اور ضروری ہوگی، چنانچہ اگر سائل اور اسکے دیگر بھائیوں نے ماہا نہ بنیاد پر اپنے والد کو چار ہزار روپے خرچے کی مد میں دینا طے کیا ہو تو ہر بیٹے کو حسب وعدہ والد کو طے شدہ رقم دینے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ البتہ کبھی وہ کسی عذر کی وجہ سے نا دے سکا تو سائل کے والد کو بھی چاہئے کہ اس کے عذر کو قبول کر کے اسے معاف کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الہندیۃ: قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب، أو لم يقدرا بخلاف الحربيين المستأمنين، ولا يشارك الولد الموسر أحدا في نفقة أبويه المعسرين كذا في العتابية. اليسار مقدر بالنصاب فيما روي عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى -، وعليه الفتوى والنصاب نصاب حرمان الصدقة هكذا في الهداية. (الفصل الخامس في نفقة ذوي الأرحام، ج 1، ص 564، ط؛ ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: (و) تجب (على موسر) ولو صغيرا (يسار الفطرة) على الأرجح ورجح الزيلعي والكمال إنفاق فاضل كسبه.(الی قولہ) (النفقة لأصوله) ولو أب أمه ذخيرة (الفقراء) ولو قادرين على الكسب الخ (کتاب الطلاق، باب النفقہ،مطلب في نفقة الأصول، ج 3، ص 621، ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله ولو قادرين على الكسب) جزم به في الهداية، فالمعتبر في إيجاب نفقة الوالدين مجرد الفقر الخ (کتاب الطلاق، باب النفقہ،مطلب في نفقة الأصول، ج 3، ص 621، ط: سعید)۔
وفی البحر الرائق: (قوله ولأبويه وأجداده وجداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء أما الأبوان فلقوله تعالى {وصاحبهما في الدنيا معروفا} [لقمان: 15] ، أنزلت في الأبوين الكافرين وليس من المعروف أن الابن يعيش في نعم الله تعالى ويتركهما يموتان جوعا،(الی قولہ) ولا يجبر الابن على نفقة أبويه المعسرين إذا كان معسرا إلا إذا كان بهما زمانة أو بهما فقر فقط فإنهما يدخلان مع الابن ويأكلان معه ولا يفرض لهما نفقة على حدة اهـ(باب النفقہ، نفقة الأبوين والأجداد والجدات،ج4 ، ص 223، ط: دار الکتب الاسلامی)۔
وفی الدر المختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه.(ج6، ص 200، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77995کی تصدیق کریں
0     548
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات