کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ! اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے،وہ سلائی وغیرہ کرتی تھی، اسی کے پیسے جمع کر کے مکان خریدا تھا، ، جس کی ملکیت میری والدہ کی ہے، والد نے اس میں کوئی حصہ نہیں ملایا تھا، اب والد ہ کے انتقال کے بعد ہم بھائیوں نے فی کس چار ہزار والد کے لیے متعین کئے، میں رکشہ چلاتا ہوں اور کبھی اخراجات وغیرہ کے پیسے نہ بچیں تو والد کو پیسے نہیں دے پاتا، جس پر وہ ناراض ہوتے ہیں اور میرے کام پر چلے جانے کے بعد گھر کا گیس اور بجلی بند کر دیتے ہیں، جبکہ بل چاروں بھائی مل کر بھر تے ہیں، اور دروازہ کو باہر سے تالا لگا دیتےہیں، جس سے بچے اسکول جانے سے رہ جاتے ہیں، آپ بتائیں کہ کیا ہم پر والد کو ہر حال میں متعین پیسے دینا لازم ہے؟ اور گھر کے متعلق کہتے ہیں کہ میں بیچ کر حج کروں گا، اور باقی پیسے بینک میں رکھوں گا، جبکہ مذکور گھر والدہ کی ملکیت ہے، اس سلسلہ میں آپ ہی رہنمائی فرمائیں کہ والد کا مذکور طرز عمل درست ہے یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور مکان اگر واقعۃً سائل کی والدہ مرحومہ کی ملکیت تھا تو ایسی صورت میں مرحومہ کی وفات کے بعد مذکور مکان مرحومہ کا ترکہ بن چکا ہے، جوکہ دیگر ترکے کی طرح شوہر (سائل کے والد )سمیت مرحومہ کے تمام ورثاء ( بیٹیوں، بیٹوں ) میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا۔ لہذا سائل کے والد کے لئے دیگر ورثاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر ترکے کا مکان فروخت کرکے حاصل شدہ ر ساری رقم اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔ جبکہ سائل کا والد اگر تنگدست ہو، اس کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو تو ایسی صورت میں اسکے نان و نفقہ کی ذمہ داری اس کے صاحب حیثیت اولاد کے ذمہ لازم اور ضروری ہوگی، چنانچہ اگر سائل اور اسکے دیگر بھائیوں نے ماہا نہ بنیاد پر اپنے والد کو چار ہزار روپے خرچے کی مد میں دینا طے کیا ہو تو ہر بیٹے کو حسب وعدہ والد کو طے شدہ رقم دینے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ البتہ کبھی وہ کسی عذر کی وجہ سے نا دے سکا تو سائل کے والد کو بھی چاہئے کہ اس کے عذر کو قبول کر کے اسے معاف کرے۔
کما فی الہندیۃ: قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب، أو لم يقدرا بخلاف الحربيين المستأمنين، ولا يشارك الولد الموسر أحدا في نفقة أبويه المعسرين كذا في العتابية. اليسار مقدر بالنصاب فيما روي عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى -، وعليه الفتوى والنصاب نصاب حرمان الصدقة هكذا في الهداية. (الفصل الخامس في نفقة ذوي الأرحام، ج 1، ص 564، ط؛ ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: (و) تجب (على موسر) ولو صغيرا (يسار الفطرة) على الأرجح ورجح الزيلعي والكمال إنفاق فاضل كسبه.(الی قولہ) (النفقة لأصوله) ولو أب أمه ذخيرة (الفقراء) ولو قادرين على الكسب الخ (کتاب الطلاق، باب النفقہ،مطلب في نفقة الأصول، ج 3، ص 621، ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله ولو قادرين على الكسب) جزم به في الهداية، فالمعتبر في إيجاب نفقة الوالدين مجرد الفقر الخ (کتاب الطلاق، باب النفقہ،مطلب في نفقة الأصول، ج 3، ص 621، ط: سعید)۔
وفی البحر الرائق: (قوله ولأبويه وأجداده وجداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء أما الأبوان فلقوله تعالى {وصاحبهما في الدنيا معروفا} [لقمان: 15] ، أنزلت في الأبوين الكافرين وليس من المعروف أن الابن يعيش في نعم الله تعالى ويتركهما يموتان جوعا،(الی قولہ) ولا يجبر الابن على نفقة أبويه المعسرين إذا كان معسرا إلا إذا كان بهما زمانة أو بهما فقر فقط فإنهما يدخلان مع الابن ويأكلان معه ولا يفرض لهما نفقة على حدة اهـ(باب النفقہ، نفقة الأبوين والأجداد والجدات،ج4 ، ص 223، ط: دار الکتب الاسلامی)۔
وفی الدر المختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه.(ج6، ص 200، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1