السلام علیکم !
میرے دادا کے زمانے میں 100 گز کی زمین پر دو کمروں کی مٹی کا گھر (باڑے کی طرز کا کچا مکان) بنا ہوا تھا, میرے والد صاحب نے تین دکانیں بنائیں اور چھت ڈال کر پورے گھر کو پکا کروایا اور ایک منزل گھر اوپر بنایا , اس سے اوپر دوسری منزل میرے چچا نے بنوائی،وقت گزرتا گیا اور میرے ابو کا بھی انتقال ہوگیا،پھر میں نے اور میرے چھوٹے بھائی نے گراؤنڈ فلور اور فرسٹ فلور جوکہ ہمارے ابو بناکر گئے تھے،ہم نے مزید پیسہ لگایا ,نئے دور کے حساب سے فرش پر ماربل ٹائل وغیرہ لگوایا،رنگ وروغن کروایا اور میرے چچا نے دوسری منزل کے اوپر ایک اور چھت ڈلوائی اور تیسرا فلور بھی بنوایا ،جوکہ ان کی ضرورت تھی،تین بچے شادی شدہ تھے،گھر میں جگہ کم تھی،تو انہوں نے بھی مزید پیسہ لگایا،یوں گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل ہماری اور دوسری اور تیسری منزل میرے چچا کی،ہم نے خوب پیسہ لگادیا،میری دونوں پھوپھیوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور نہ اس وقت گھر میں حصے کا تقاضہ کیا،گھر میں پیسہ لگانے کے ایک سال بعد ہی انہوں نے حصے کا تقاضہ شروع کردیا ہے،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ میری دونوں پھوپھیوں کا قانونی اور شرعی طور پر کیا حصہ بنےگا؟براہِ مہربانی اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں
صورتِ مسئولہ میں مذکور گھر پر سائل کے والد اور چچا نے جو تعمیر والد کی زندگی میں یا ان کے انتقال کے بعد دیگر ورثاء کی رضامندی سے اپنی ذاتی رہائش کے لئے کی تھی،تو یہ تعمیر والد اور چچا کی ملکیت شمار ہوگی،اس میں دیگر بہن بھائیوں کا شرعاً کوئی حصہ نہیں،چنانچہ مذکور گھر اور تعمیر کی الگ الگ مالیت معلوم کرکے گھر کے مقابلہ میں جتنی قیمت آئے،وہ تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہے، بوقتِ ضرورت ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر تقسیم کا شرعی طریقہ کار معلوم کرلیا جائے۔
کمافی العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (سئل) فيما إذا بنى زيد قصرا بماله لنفسه في دار مشتركة بينه وبين إخوته بدون إذنهم فهل يكون البناء ملكا له؟
(الجواب) : نعم ! وإذا بنى في الأرض المشتركة بغير إذن الشريك له أن ينقض بناءه ذكره في التتارخانية من متفرقات القسمة.
(سئل) في دار مشتركة بين جماعة بنى فيها بعضهم بناء لأنفسهم بآلات هي لهم بدون إذن الباقين ويريد بقية الشركاء قسمة نصيبهم من الدار المذكورة وهي قابلة للقسمة فهل لهم ذلك وما حكم البناء؟
(الجواب) : حيث كانت قابلة للقسمة وينتفع كل بنصيبه بعد القسمة فلبقية الشركاء ذلك ثم البناء حيث كان بدون إذنهم إن وقع في نصيب الباقین بعد قسمة الدار فبها ونعمت وإلا هدم البناء كما في التنوير وغيره.اھ(ج1 ص100 باب الردۃ والتعزیر ط: حقانیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1