نام رکھنے کا حکم

لائبہ نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
78453
| تاریخ :
2024-10-05
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

لائبہ نام رکھنا کیساہے

السلام علیکم !کیا لائبہ نام رکھنا صحیح نہیں ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو کیا وجہ ہے اور اگر صحیح ہے تو کیا معنی ہے اس نام کے؟شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

لائبہ "عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کا معنی ہے پیاسی عورت ، اس لئے معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھنا مناسب نہیں، لہذا بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صحابیات رضی اللہ عنہن یا مسلمان نیک خواتین کے ناموں میں سے کسی نام پر یا اچھا بامعنی نام رکھیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی المعجم الوسيط : (لاب) : الرجل أو البعير لوباً و لواباً و لوباناً : عطش و استدار حول الماء و هو عطشان لا يصل إليه فهو لائب ، (ج) لؤوب و لوب و لوائب ، يقال : إبل لوب و لوائب ، و هي لائبة ، و الجمع لوائب الخ(ج2 ص844 ط:دار الفکر)۔
و فی الھندیۃ: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط الخ(ج5 ص362)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78453کی تصدیق کریں
0     413
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات