کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ کریڈیٹ کارڈ پر جو ڈسکاونٹ وغیرہ ملتا ہے ، شرعا ًاس کا کیا حکم ہے؟
2:اپنے بینک اے، ٹی، ایم کے علاوہ کسی دوسرے بینک کے اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے پر کچھ رقم کی کٹوتی ہوتی ہے، شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں۔ شکریہ
ادارے کی طرف سے کریڈٹ کارڈ ہولڈر کو جو ڈسکاؤنٹ ملتا ہے، یہ ادارے کی طرف سے تبرّع اور احسان ہے، جس کا استعمال کارڈ ہولڈر کے لئے جائز اور درست ہے۔
جبکہ اے ٹی ایم مشین سے رقم نکلوانے پر جو کٹوتی ہوتی ہے ،وہ بھی بینک کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات کے معاوضہ کے طور پر لی جاتی ہے، اس لئے یہ کٹوتی کرنا بینک کی طرف سے درست ہے، جو کہ شرعاً جائز ہے۔
كما في بحوث: وعلى هذا فان مصدر البطاقة لا يعدو تجاه حامل البطاقة من أن يكون محتالا عليه اولاً، ثم مقرضاً له عند ما يسدد دينه إلى التاجر. فالجائزة التي يقدمها مصدر البطاقة إلى حاملها هي جائزة من قبل المقرض الى المستقرض، فهو تبرع محض، لا قمار فيه ولا رباء أما القمار، فلاءن حامل البطاقة لم يعلق شيئاً من ماله على خطر، وأما الربا، فانه يتحقق باء عطا زيادة من المستقرض الى المقرض، وليس فى العكس، فلو أعطى مقرض شيئاً للمستقرض، علاوة على القرض، فانه تبرع محض لا يلزم منه الربا اھ (2 /163) ۔
وفى بحوث: لا مانع من ان يطالب البنك مستقرضيه باداء مبلغ مقابل التكلفات الادارية التي تحملها في تقويم المشروعات، ومتابعة تنفيذها، ما دام ذاك المبلغ لا يجاوز التكلفات الفعلية الواقعة في ذلك المشروع خاصة، فان كان من الممكن تحديد هذه التكلفات بدقة، فهو الانسب الأوفق باحكام الشريعة، فانه لا غبار على جوازه - (ج 1 ص 214)۔
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0