محترم جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم!
عرض یہ ہے کہ اگر ہم کوئی چیز یا ملکیت ادھار پر بیچتے ہیں تو اُس کا ریٹ زیادہ ملتا ہے، لیکن اگر اسی ملکیت میں فروخت کرنے کے بعد شرعی حصہ داروں کو یک مشت ادائیگی کرنی ہو اور فوراً کرنی ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ مثال کے طور پر ایک مکان کو ہم 10 لاکھ روپے میں فروخت کرتے ہیں اور کچھ ایڈوانس مثلاً ایک لاکھ روپے فوراً مل جاتے ہیں اور بقایا نو لاکھ تین سال میں یعنی ہر سال تین لاکھ روپے ملیں گے، لیکن اُس میں جو شرعی حصے دار ہو وہ یہ کہے کہ نو لاکھ جانے اور تم جانو مجھے میرا حصہ فوری دو تو اُس کو کس طریقے سے حصہ دیا جائے ؟ گورنمنٹ آف پاکستان میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے(Inflation rate)( انفلیشن ریٹ ) جس کے تحت ادھار اور نقد کی تشریح ہوتی ہے یعنی اگر ایک چیز 100 روپے کے ادھار پر تین سال کے لئے دی ہے تو اس کی نقد رقم 8.75 جو کہ موجودہ (Inflation rate) ہے، بنتی ہے 73.75 روپے۔ برائے مہربانی تفصیل سے تشریح کر دیں۔
مذکورہ صورت میں اگر کوئی شرعی وارث مکان فروخت ہونے اور قیمت وصول ہونے سے قبل اپنا حصہ لے کر الگ ہونا چاہے تو مارکیٹ ریٹ کے مطابق اس کا جتنا حصہ بنتا ہو، اتنا حصہ لے کر الگ ہو سکتاہے، بعد میں وہ مکان ادھار فروخت کرنے اور انفلیشن کی وجہ سے وہ وارث دوبارہ مزید رقم کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0