کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک رہائشی پلاٹ ہے، جو کہ ۲۴۰ گز رقبہ اور چار کمروں پر مشتمل ہے،میں اس پلاٹ کو اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں ہبہ کرنا چاہتا ہوں، میرے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، کیا مذکورہ پلاٹ میں ان تمام کو مشترکہ طور پر برا بر ہبہ کر سکتا ہوں کہ نہیں ہے ؟
سائل کا مذکور عمل جائز اور درست ہے ،اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بقدرِ ضرورت اپنی رہائش کی جگہ چھوڑ کر باقی اپنی تمام اولاد یعنی بیٹے اور بیٹیوں میں برابر برابر تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدیا جائے، تاکہ وہ شرعاً بھی اپنے اپنے حصہ کے مالک کہلا سکیں، البتہ اگر شخصِ مذکور کسی بیٹے یا بیٹی کی محتاجگی ، خدمت گزاری یا دینداری و وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں کچھ زائد بھی دیدے ،تو اس کی گنجائش ہے،مگر مالکانہ قبضہ دینا اس صورت میں بھی شرط ہے۔
ففی الدر المختار: و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (5/ 688)۔
و في البحر الرائق: قوله ( في محوز مقسوم ومشاع لا يقسم ) أي تجوز الهبة فيما ذكر
قيد بالمحوز لأن المتصل كالثمرة على الشجر لا تجوز هبته وقيد المشاع بما لم يقسم لأن هبة المشاع الذي تمكن قسمته لا يصح اھ (7/ 286)۔
و في ه أیضا: ويشترط في صحة هبة المشاع الذي لا يحتملها أن يكون قدرا معلوما حتى لو وهب نصيبه من عبد ولم يعلمه به لم يجز لأنها جهالة توجب المنازعة(7/ 286)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0