السلام علیکم!
میں پاکستان سے باہر رہتا ہوں،جہاں کے قانون کے حساب سے آپ بچے کا فرسٹ (پہلا )نام اپنی مرضی کا رکھ سکتے ہیں،مگر لاسٹ (سر نام)نام باپ یا ماں کے لاسٹ نام میں سے رکھ سکتے ہیں،اسی سلسلے میں مجھے رہنمائی چاہے،کیا ہم بچے کا لاسٹ نام والد کے لاسٹ نام (یعنی دادا ) کے نام کو رکھے یا ماں کا لاسٹ نام (نانا) کے نام کو رکھے،اس سلسلے میں اسلام میں کیا رہنمائی دی گئی ہے،بچے کے نام کے ساتھ باپ کا نام آئیگا مگر لاسٹ نام دادا یا نانا کے فیملی کا نام آئیگا۔
بچے کے درست نام کے ساتھ دادا یا نانا دونوں میں سے کسی کا نام بھی لگا سکتے ہیں ،شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ،البتہ نسب کی نسبت چونکہ والد سے ہوتی ہے ،لہذا دادا کے نام کا انتخاب زیادہ مناسب ہے ۔
کما فی روح المعانی؛والجد والعم یسمیان ابا مجازا ۔ج؛2؛ص؛507 ۔
و فی تبیین الحقائق ؛قَالَ رحمه الله ؛وَالْجَدُّ كَالْأَبِ إنْ لَمْ يَتَخَلَّلْ فِي نِسْبَتِهِ إلَى الْمَيِّتِ أُمٌّ۔ج؛7 ص؛4731؛ط؛دارالکتب العلمیہ۔
و فی سنن ابی داؤد؛عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ».ص؛163؛رقم الحدیث196؛ج؛1۔
و فی الکنز ؛والجدّ كالأب إن لم يتخلّل في نسبته إلى الميّت أمٌّ ص؛696؛ج؛2۔